ایک عورت یوں تو ایک چوہے کو دیکھ کربھی خوفزدہ ہوسکتی ہے، تاہم وہ بیماری کے معاملے میں مرد سے زیادہ برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ عورتوں میں جو یہ خاص صلاحیت فطرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مرد عموماً بڑ ہانکنے کا عادی ہوتا ہے، جبکہ عورت بڑ نہیں ہانکتی بلکہ صبر و تحمل سے دکھ درد برداشت کرلیتی ہے۔
مجھے اپنی ایک مریضہ یاد آرہی ہے، جس کا ایک بڑا آپریشن میں نے کیا تھا۔ وہ ایک کمزور، زرد اور نرم و نازک خاتون تھی۔ اس کے سر پر ایسی چوٹ لگی تھی کہ اگر کسی دیوقامت انسان کے بھی لگتی تو اب تک مرچکا ہوتا، لیکن وہ زندہ تھی اور اس کا آپریشن یقینا بہت پیچیدہ، نازک اور جان لیوا ثابت ہوسکتا تھا۔ اس کی حالت اتنی خراب ہوچکی تھی کہ وہ اپنا سایہ بن کے رہ گئی تھی۔ نقاہت اور کمزوری اسے موت کی دہلیز تک لے آئی تھی۔ اس کے جسم کی حرارت برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذرائع سے کام لیا جاتا تھا۔ اس کی نبضیں ڈوبتی رہتی تھیں۔ اس کے پاس جو بھی آتا اس کے چہرے پر اس کی حالت دیکھ کر خوف اور پریشانی ظاہر ہونے لگتی۔ ایک دن اس نے مجھے ایسی نگاہوں سے دیکھا جیسے مجھ سے کچھ کہنا چاہتی ہے۔ میں نے اپنے کان اس کے ہونٹوں سے لگا دیے کیونکہ اس کی آواز بہت مدھم تھی۔ اس نے ٹوٹے پھوٹے کانپتے اور انتہائی دھیمے لیجے میں کہا: ’’میں نہیں مروں گی۔‘‘
ایک معالج اور سرجن کی حیثیت سے میرے نزدیک اس کا یہ دعویٰ کمزور ترین دعویٰ تھا۔ میرا سارا علم اور اس کی جسمانی حالت یہ گواہی دیتے تھے کہ مرنے والی ہے، لیکن اسے کیا کہیے کہ وہ زندہ رہی۔۔۔ اس واقعے کو اٹھائیس برس بیت چکے ہیں، وہ آج بھی زندہ ہے اور میں جب بھی اسے یاد کرتا ہوں تو خوش ہوتا ہوں کہ اس خاتون نے میرے علم اور تجربے کو شکست دی اور اپنی خود اعتمادی کے بل بوتے پر زندہ رہی۔
اصل میں ایک دوسری باہمت خاتون کا سچا قصہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ اس خاتون کی عمر چالیس برس کے لگ بھگ تھی۔ شکل و صورت کے لحاظ سے اس میں کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھی۔ وہ خاصی کم رو اور غیر دلچسپ تھی۔ اس کا شوہر بھی ایسا ہی تھا۔ ایسے کم رو اور عام اشخاص کی دنیا میں اکثریت ہے۔ وہ لندن کی ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ ان کے ذرائع آمدنی محدود تھے اور ان کی زندگی یکسانیت کا شکار تھی۔
یہ خاتون جن کا میں نے ذکر کیا ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ خاص قسم کے جمود کی زندگی بسر کرنے کی عادی ہوچکی تھی۔ لالچی اور حریص نہ تھی، اسی لیے محدود ذرائع میں بھی خوش رہتی تھی۔
ایک ہولناک دن اس کی زندگی میں ایسا آیا کہ جب اس نے دیکھا کہ اس کے سینے پر ابھرنے والی پھنسی- دراصل ایک بڑا پھوڑا بن چکی ہے۔ وہ معالج کے پاس گئی جس نے اسے ایک سرجن کے پاس بھیج دیا، جس نے اس کا کامیاب آپریشن کردیا۔ یوں اس خاتون کو عارضی طور پر سکون حاصل ہوگیا کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ اس پھوڑنے نے اسے بہت پریشان کردیا تھا لیکن اس سے بھی زیادہ اس کا شوہر پریشان تھا۔ ان دونوں میں بے پناہ محبت تھی۔ میاں بیوی فی الواقع ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ محدود وسائل کی وجہ سے ان کی بیرونی تفریحات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اسی لیے وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔
اس خاتون کا خاوند ایک جذباتی مزاج رکھنے والا انسان تھا۔ اس نے اپنے فیکٹری کے کچھ ساتھیوں سے بیوی کی بیماری کا ذکر کیا تو ان میں سے اکثر نے اسے بتایا کہ یہ تو ناسور ہے جس کی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔ آپریشن کے بعد یہ پھوڑا دوبارہ نمودار ہوجاتا ہے۔ شوہر نے اپنی بیوی کو تو ان اندیشوں سے مطلع نہ کیا لیکن خود وہ بے چین اور خوفزدہ رہنے لگا۔ بیوی کے ساتھ اسے جو بے پناہ محبت تھی اس کی وجہ سے وہ بے حد مضطرب رہنے لگا۔ اس ناسور کا تصور گویا اس کے ذہن پر آسیب کی طرح سوارہوگیا۔ وقت گزرتا گیا جس کے ساتھ ساتھ شوہر کا خوف اور اندیشہ بھی کم ہوتا چلا گیا اور شوہر نے بھی سوچنا شروع کردیا کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ لیکن افسوس یہ خوش فہمی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ خاتون نے محسوس کرنا شروع کردیا کہ جہاں آپریشن ہوا تھا وہاں اندرونی تبدیلیاں رونما ہونے لگی ہیں اور پھر سے ایک پھنسی وہاں نمودار ہونے لگی ہے۔ دوسری پھنسی نکلی اور پھر اس کا سینہ پھنسیوں سے بھرنے لگا۔ خاتون نے اس ساری صورتِ حال کو اپنے شوہرسے چھپانا ہی بہتر سمجھا کیونکہ وہ دیکھتی تھی کہ اس کا شوہر اس کی محبت اور رفاقت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ اسے اس خوفناک حقیقت سے آگاہ نہ کرے، جہاں تک ہوسکے اس سے چھپاتی رہے۔
اس نے بہت عرصے تک اس خوفناک راز کو چھپائے رکھا اور کسی معالج کے پاس بھی نہ گئی، تاہم وہ زیادہ دیر اپنی بشاشت کو برقرار نہ رکھ سکی۔ اس کا رنگ زرد پڑنے لگا اور کوئی بھی دیکھنے والا کہہ سکتا تھا کہ وہ بیمار ہے۔ وہ کمزور اور لاغر ہوتی چلی گئی۔ وہ پرانے دنوں کی طرح ہنستی اور مسرور دکھائی دینے کی کوشش کرتی لیکن دیکھنے والے کو اندازہ ہوجاتا کہ یہ ہنسی اور مسرت کھوکھلی اور محض دکھاوے کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے شوہر نے جلد ہی بھانپ لیا کہ اس کی بیوی بیمار ہے اور پرانے خدشات پھر سے اس کے ذہن میں پیدا ہونے لگے۔ وہ پھر سے بے چین اور مضطرب رہنے لگا ۔ وہ اپنی بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے معائنے کے لیے سرجن کے پاس جائے مگر وہ ہنس کر ٹال دیتی: ’’ایک صحت مند عورت بھلا سرجن کے پاس کیوں جائے؟‘‘
بہرحال اس کے شوہر کا اصرار شدید ہوتا گیا اور ایک دن وہ اس کے اصرار پر معائنے کے لیے چلی گئی۔ سرجن نے ایک نگاہ ڈالتے ہی صورتِ حال کی سنگینی اور شدت محسوس کرلی۔ اس خاتون کا مرض لوٹ آیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی ہفتوں تک اس نے اپنے شوہر سے اس راز کو چھپایا تھا اور علاج کے لیے نہ آئی تھی، جس سے اس کی حالت بہت نازک ہوچکی تھی۔ اب کسی قسم کے علاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا تھا۔
سرجن سوچنے لگا کہ وہ کیا کرے؟ اب اس کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیا اس خاتون کو سب کچھ سچ سچ بتادے۔ ایسی صورت میں اس خاتون اور اس کے شوہر پر جو قیامت ٹوٹتی… اس کے تصور نے سرجن کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ اس عورت کے دن گنے جاچکے تھے۔ کیوں نہ اسے اس کی قریبی موت سے لاعلم رکھتے ہوئے اس کے آخری ایام موت کے خوف سے آزا دکردیے جائیں۔ وہ جیسے تیسے خوشی سے یہ ایام بسر کرے۔ اسے اس کی موت کے بارے میں بتانا ظلم تھا۔ ان جذباتی دلائل کی بنا پر سرجن نے مریضہ خاتون سے کہا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں۔ وہ جلد ہی ٹھیک ہوجائے گی۔ اسے ایک دوائی بھی تسلی کے لیے تھمادی کہ اس کا استعمال جاری رکھے۔ جلد ہی وہ تندرست ہوجائے گی۔ اس نے یقین دلایا کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔
وہ گھر چلی آئی۔ شوہر کو سرجن کی رائے سے مطلع کیا اور تسلی دی کہ وہ چند روز میں بھلی چنگی ہوجائے گی۔ خاتون جانتی تھی کہ اس کے معالج نے اسے بہلایا ہے۔
اس کا شوہر جو بے حد جذباتی تھا اور اس مرض کے بارے میں بہت کچھ سن چکا تھا، اپنی بیوی سے محبت کی وجہ سے بیوی کی باتوں پر یقین نہ کرسکتا تھا۔ ویسے بھی وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کی بیوی کی حالت ہر روز خراب ہورہی ہے۔ اس نے اب اپنی بیوی سے یہ ضد شروع کردی کہ وہ لندن آجائے اور مجھ سے اپنا معائنہ کرائے۔ بیوی طرح دیتی اور ٹالتی رہی لیکن شوہر نے بالآخر اسے مجبور کردیا۔
اس کا شوہر اپنی بیوی کی بیماری کے بارے میں اتنا خوفزدہ اور پریشان تھا کہ اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اپنی بیوی کے ساتھ لندن آکر مجھ سے ملتا۔ اس نے اپنی بیوی کوٹرین پر سوار کرایا اور اس سے کہا کہ وہ سہ پہر کو ریلوے اسٹیشن ہی پر اس کا انتظار کرے گا۔
میں نے اس کا معائنہ کیا تو پہلی نگاہ ہی میں بھانپ لیا کہ یہ کیس اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ اب کسی امید کو دل میں جگہ دینا بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ میں سوچنے لگا کہ یہ جان لیوا حقیقت اسے کیسے بتاؤں۔ ابھی میں اسی شش و پنج میں تھا کہ اس عورت نے بلا کی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:
’’جو بھی حقیقت ہے آپ اس سے مجھے آگاہ کردیں۔ میں خوفزدہ نہیں ہوں گی۔ اپنی حالت کا کچھ اندازہ مجھے ہے۔ اس لیے اگر کوئی خطرناک بات بھی ہوئی تو مجھے زیادہ صدمہ نہیں ہوگا۔ میں آپ سے استدعا کرتی ہوں کہ مجھے سب کچھ پوری صداقت اور دیانت سے بتادیجیے۔‘‘
میں اس خاتون کے حوصلے کی اپنے دل میں داد دیے بغیر نہیں رہ سکا۔ میرے دل نے کہا کہ اب حالات ایسے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں کہ کچھ بھی چھپانا بے کار ہوگا۔ اس لیے میں نے اسے صحیح صورتِ حال سے آگاہ کردیا۔ کسی قسم کی ہراسانی اور خوف کااظہار کیے بغیر اس نے پوچھا: ’’کیا کوئی علاج ممکن ہے؟‘‘
میرا جواب نفی میں سن کر بھی اس کے تاثرات تبدیل نہیں ہوئے۔ وہ صبر و تحمل کا کوہِ گراں بنی میرے سامنے کھڑی تھی۔
’’کیا میں چھ ماہ تک زندہ رہ سکتی ہوں۔‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’آپ کے خیال میں کب تک زندہ رہ سکتی ہوں۔‘‘
’’کوئی بات حتمی طور پر تو نہیں کہی جاسکتی، البتہ میرے خیال میں اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا جیسے اپنے آپ سے کچھ کہہ رہی ہو۔
جب وہ مجھ سے مل کر جارہی تھی تو اس کا چہرہ کسی خوف، دکھ اور صدمے کی غمازی نہیں کررہا تھا۔ اس نے اپنا دکھ چھپالیا تھا۔ وہ بہت بہادر خاتون تھی۔ مجھ سے ملنے کے بعد کیا کچھ ہوا، اس کی تفصیلات مجھے بعد میں معلوم ہوئیں۔
جون کا مہینہ تھا اور یہ ہفتے کا دن تھا، جب وہ مجھ سے ملنے آئی تھی۔ صبح اس کا شوہر اسے ٹرین پر سوار کراکے اپنی فیکٹری میں چلا گیا تھا۔ ہفتے کے دن اس کی نصف یوم کی رخصت ہوتی تھی۔ اس نے سہ پہر کے بعد اپنی بیوی سے ریلوے اسٹیشن پر استقبال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ فیکٹری سے چھٹی ہوتے ہی وہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ بہت بے چین تھا۔ اس کا اضطراب بڑھتا جارہا تھا۔ وہ ریلوے پلیٹ فارم پر کبھی کسی بینچ پر بیٹھ جاتا، کبھی ٹہلنے لگتا۔ بہت سے لوگ اس کی ان اضطرابی حرکات کی وجہ سے اب اسے دلچسپی سے دیکھنے لگے تھے، لیکن اسے کسی ردِعمل کی خبر تھی نہ پروا۔
محبت انسان کو عجیب عجیب مضحکہ خیز اور طفلانہ حرکتیں کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس نے جیب سے ایک سکہ نکالا اور دل میں کہا میں اسے اچھا لتا ہوں اگر زمین پر گر کر اس کا وہ حصہ اوپر آیا جس پر بادشاہ کی شبیہ کندہ ہے تو اس سے یہ شگون لوں گا کہ میری بیوی ٹھیک ہے، اسے کوئی بیماری ہے تو ٹھیک ہوجائے گی۔ اگر دوسرا حصہ اوپر آیا تو … اس خیال ہی نے اسے لرزا دیا اور جو سکہ اس نے اچھالنے کے لیے جیب سے باہر نکالا تھا اسے پھر سے اپنی جیب میں ڈال دیا۔
آج اسے یوں لگ رہا تھا جیسے ایک ایک پل غیر معمولی حد تک طویل اور بوجھل ہوگیاہے۔ کبھی وہ جھنجھلا کر اپنے آپ سے کہتا:’’آج گاڑی بھی نہیں آئے گی۔‘‘ وہ بار بار گھڑی کو دیکھتا۔ بالآخر اسے سہ پہر کو لندن سے آنے والی ٹرین آتی دکھائی دی تو اسے کچھ اطمینان ہوا۔ اطمینان بھی لمحاتی تھا، دل میں طرح طرح کے خیال آنے لگے۔ ہوسکتا ہے میری بیوی اس گاڑی میں سوار ہی نہ ہوئی ہو۔ ممکن ہے ڈاکٹر نے اسے علاج کے لیے کسی کلینک میں داخل کرادیا ہو۔ پھر خیال آیا جب وہ آئے گی تو میں اس کا چہرہ دیکھتے ہی بھانپ جاؤں گا کہ ڈاکٹر نے کیا جواب دیا ہے… کیا بتایاہے؟
ٹرین اس کے قریب آکر رک گئی۔ وہ بے اختیار پیچھے ہٹ گیا اور پھر ہجوم میں گھل مل گیا۔ اس نے سوچا پہلے میں دور سے اپنی بیوی کو دیکھوں گا کہ وہ کیسی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کا چہرہ کیا تاثر لیے ہوئے ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو ریل گاڑی کے ڈبے سے اترتے دیکھا۔ اس کا چہرہ مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔ وہ ہجوم کو چیرتا ہوا اس کی طرف بھاگا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
بیوی بے اختیار پہلے تو مسکرائی پھر ہنسنے لگی۔ وہ چہکتے ہوئی بولی:’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔ ہمارے ملک کے سب سے بڑے سرجن نے مجھے تسلی دی ہے کہ خطرے اور تشویش کی کوئی بات نہیں… میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘
وہ ہنس رہی تھی، لہک رہی تھی، اپنے شوہر کا ہاتھ پکڑ کر بار بار خوشی سے دبا رہی تھی۔
یہ خوش خبری سن کر اس کا شوہر اچھلنے لگا۔ بچوں کی طرح اپنا ہیٹ ہوا میں اچھالنے لگا۔ ان دونوں کو اس طرح ہنستے کھیلتے دیکھ کر کئی مسافر مسکرانے لگے۔ اس کے شوہر کا جی چاہتا تھا کہ وہ دنیا کو چیخ چیخ کر بتائے کہ اس کی بیوی کو کوئی جان لیوا مرض لاحق نہیں۔ برطانیہ کے سب سے بڑے معالج نے بتادیا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک ہے۔وہ چاہتا تھا کہ اس خوشخبری میں پوری دنیا شریک ہوجائے۔
اس عورت کی ہمت اور حوصلے کا اندزہ کیجیے جو چند دنوں کی مہمان تھی جسے بقول اس کے، برطانیہ کے سب سے بڑے سرجن نے بتادیا تھا کہ اس کی زندگی کے دن گنے جاچکے ہیں۔ اس کے باوجود وہ خوش نظر آرہی تھی۔ ہنس رہی تھی۔ اپنے شوہر کو ہنسا رہی تھی۔ اس شوہر سے جھوٹ بول رہی تھی جس سے زیادہ پیارا اور عزیز اس کے لیے پوری دنیا میں کوئی نہیں تھا۔
دوسرے دن اتوار تھا۔ انھوں نے اپنے محدود وسائل کو نظر انداز کرکے فضول خرچی کا منصوبہ بنایا اور پکنک کی تیاریاں کرنے لگے۔ شوہر یوں محسوس کرتا تھا کہ اس کی زندگی پر بدقسمتی کے جو سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے، وہ چھٹ گئے ہیں اور سورج کی کرنوں نے دل کو گرما دیا ہے، اس کی بیوی بچ گئی ہے اور دنیا میں اس کے لیے اس سے زیادہ بڑی خوشخبری کیا ہوسکتی ہے۔
اتوارکا دن انھوں نے گھر سے باہر گزارا۔ وہ باغوں اور پارکوں میں گھومتے رہے۔ بیوی کی حالت بہت خراب ہورہی تھی، چلنے پھرنے سے اس کی طاقت کم ہورہی تھی۔ تھکن سے نڈھال ہونے کے باوجود وہ ہنس رہی تھی۔ اپنی تکلیف کو چھپا رہی تھی۔ وہ ہنس رہے تھے۔ ایک دوسرے کو لطیفے سنا رہے تھے۔ بچوں کی طرح ہنستے کھیلتے انھوں نے اتوار کا دن گزارا اور شام کو گھر لوٹے۔ یہ پورا دن مسرتوں بھرا دن تھا۔ یہ پورا دن اذیتوں بھرا دن تھا، کیونکہ بیوی اپنی اصلی حالت کو چھپانے کا ڈراما کرتی رہی تھی۔
دوسرے دن جب صبح اس کا شوہر کام پر جانے کی تیاری کررہا تھا تو اس نے اسے حقیقت سے آگاہ کردیا۔ وہ ششدر رہ گیا…
جب میں اسے آخری بار دیکھنے کے لیے گیا تو اس نے اپنی زندگی کے آخری ہفتے اور اتوار کے دنوں کی تفصیلات بتائی تھیں۔ اتوار کا مسرت بھرا دن گزارنے کے بعد وہ بدھ کو اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئی۔ میرے دل میں ہمیشہ کے لیے اپنے بارے میں یہ تاثر چھوڑ گئی کہ وہ بہادر عورت تھی۔ میں آخری بار اس سے ملنے منگل کے دن گیا تو اس کی سانسیں اٹکی ہوئی تھیں۔ ساری تفصیل سنانے کے بعد وہ مسکرائی۔ میں نے پوچھا:’’تم نے ہفتے کے دن ہی اپنے شوہر کو سب کچھ کیوں نہ بتادیا؟‘‘
’’اسٹیشن پر وہ میرا انتظار کررہا تھا۔ اس کے چہرے کا اضطراب بتا رہا تھا کہ اگر میں نے اسے سچ بتادیا تو وہ صدمہ نہ سہ سکے گا۔ اس کے بعد میںنے سوچا کہ کل اس کی چھٹی ہے، مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ میں اس کی چھٹی کا دن غارت کردوں۔ اس لیے اس سے اپنی حالت چھپائے رکھی… پیر کو میں نے اسے صبح سویرے سب کچھ بتادیا۔ آخر اسے بتانا بھی تو میرا فرض ہے۔ اس نے کام سے چھٹی کرنی چاہی میں نے اصرار سے اسے فیکٹری بھجوادیا۔ آدمی کام میں مصروف ہو تو بہت کچھ بھول جاتا ہے۔ ایک چاہنے والی بیوی کی حیثیت سے میں نے اسے ایک آخری مسرت بھرا دن نذر کردیا۔‘‘
کیا وہ واقعی بہادر اور مثالی خاتون اور بیوی نہیں تھی؟ (اردو ڈائجسٹ سے ماخود)
مرسلہ: اقبال احمد ریاض




