قیامت کے چار دن

یونس حسرت

’’۱۵؍ستمبر ۱۹۸۲ء صبح کے ساڑھے پانچ بجے میں نے سمندر کے عقب سے اسرائیلی طیاروں کو پرواز کرتے دیکھا۔ ان کا رخ صابرہ و شتیلہ کے فلسطینی پناہ گزیں کیمپوں کی طرف تھا۔ آٹھ بجے پہلا زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکوں کی آوازیں پہلے ایک سمت سے مسلسل آتی رہیں، پھر دوپہر کے قریب یہ شور چاروں طرف پھیل گیا۔ غزہ اسپتال کے چاروں جانب پانچ میل کا علاقہ قیامت خیز شور کی زد میں تھا۔ میں نے اسپتال کی دسویں منزل سے ارد گرد کے علاقے کا جائزہ لیا تو آگ اور دھوئیں کے بادلوں کے سوا مجھے کچھ نظر نہ آیا۔ اسپتال کی ایمبولینس گاڑیوں کے لیے بھی تمام راستے بند تھے۔ سہ پہر کے بعد دھماکوں کی آوازیں اسپتال کے نزدیک آتی محسوس ہوئیں۔ ایسا لگتا تھا کہ بمباری اسپتال سے کوئی نصف سے ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہورہی ہے۔ پھر خبر آئی کہ اسرائیلی فوجی دستوں نے چاروں اطراف سے محاصرہ کررکھا ہے اور وہ اسپتال کے قریب آپہنچے ہیں۔ رات نے اپنا دامن پھیلایا تو بمباری کی شدت میں کمی آتی گئی اور پھر رات بھیگنے سے قبل ہی دھماکوں کی آوازیں آنا بند ہوگئیں۔ مگر میری چھٹی حس مجھے خبردار کررہی تھی کہ جائے فرار مسدود ہے اور ہم لوگ مکمل طور پر نرغے میں آچکے ہیں۔‘‘

ایک سنگاپوری ڈاکٹر کا یہ بیان اسرائیلی ظلم و بہمیت کا بیّن ثبوت ہے۔ ڈاکٹر سوی چائی آنگ ایک نارویجین سرجن کے ساتھ صابرہ و شتیلہ کے غزہ اسپتال میں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ وہ دونوں ۱۶ تا ۱۸؍ستمبر ۱۹۸۲ء کو فلسطینی پناہ گزینوں کے ان کیمپوں پر اسرائیلی شب خون کے عینی شاہد ہیں۔ چھتیس گھنٹوں تک مسیحی کتائب فلانجسٹوں اور مسیحی میجر سعد حداد کے جتھوں نے اسرائیلی فوجیوں کی معاونت سے کیمپوں میں مقیم معصوم بچوں، بے گناہ خواتین اور نہتے مردوں کا قتلِ عام کیا مگر دنیا کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ رات کی تاریکی میں صابرہ و شتیلہ کے فلسطینی کیمپ، بے گناہ انسانوں کا قبرستان بنادیے گئے تھے۔

اس چار روزہ خونریزی کے دوران اسرائیلی حکومت اس سازش میں اپنے ملوث ہونے کا ہر ثبوت مٹانے میں مصروف رہی اور کیمپوں سے کچھ فاصلے پر موجود رپورٹروں تک اس سے زیادہ تفصیلات نہ پہنچ سکیں کہ مغربی بیروت میں معمول کی جھڑپیں ہورہی ہیں۔ آخر کار ایک اسرائیلی صحافی نے اس قتلِ عام میں اسرائیلی سازش سے پردہ اٹھا دیا اور پھر بیگن حکومت اپنے لوگوں سمیت پوری دنیا کی لعنت ملامت کی زد میں تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم مناحم بیگن کو بھی گہرا صدمہ پہنچا تھا… مگر صابرہ و شتیلہ کے المناک سانحے سے نہیں کیوں کہ اس بھیانک کھیل میں اسرائیلی وزارت دفاع اپنی منصوبہ بندی اور معاونت کے ذریعے پوری پوری شریک تھی، انھیں تو اپنے دوستوں اور بہی خواہوں کے رویے سے صدمہ پہنچا تھا۔ آخر وہ کیوں ان پر برس پڑے تھے۔ کیا صابرہ و شتیلہ کا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نئی بات تھی۔ کیا ماضی میں ایسا نہیں ہوتا رہا تھا۔ اسرائیلی فوجوں نے ۶؍جون ۱۹۸۲ء کو لبنان پر دھاوا بولا اور نبطیہ صیدا اور صور پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس یورش میں لا تعداد شہریوں کو تہِ تیغ کیا گیا۔ چند روز بعد دامور کو تاخت و تاراج کیا اور شہری آبادی کو ملبے اور انسانی لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل کردیا تھا۔ صابرہ و شتیلہ کے کیمپوں پر اسرائیلیوں کی چڑھائی، ماضی کا تسلسل ہی تو تھا۔ دیریاسین (۱۹۴۸ء)، قابیہ (۱۹۵۳ء) اور کفر قاسم (۱۹۵۶ء) کے علاوہ تل الذعتر (۱۹۷۶ء) کے واقعات اس قدر جلد کیسے فراموش کیے جاسکتے تھے!

ڈاکٹر سوی چائی آنگ نے بتایا:

’’۱۶؍ستمبر ۱۹۸۲ء کو غزہ اسپتال میں ہماری آنکھ اسرائیلی طیاروں کی گونج سے کھلی جو ہمارے سروں پر نیچی پرواز کرتے ہوئے ادھر ادھر آجارہے تھے۔ اس کے بعد بمباری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان دھماکوں میں گولیاں چلنے کی آوازیں بھی شامل ہوگئیں۔ اسپتال میں ۹ بجے کے قریب زخمیوں کی آمد شروع ہوگئی جن میں زیادہ تعداد گولیوں سے زخمی ہونے والوں کی تھی۔ زخموں کے نشانات سے ظاہر ہوتا تھا کہ رائفل برداروں نے دونوں کیمپوں کے اندر گھروں میں گھس گھس کر بہت قریب سے لوگوں پر فائرنگ کی ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ حملہ آور اسرائیلی نہیں بلکہ بعلبکی لہجے والے لبنانی (عیسائی) تھے۔ دو سرجنوں، دو اور ڈاکٹروں اور پانچ مقامی افراد پر مشتمل ہماری میڈیکل ٹیم نے رکے بغیر کام کیا۔ انتہائی تشویشناک حالت والے تیس مریض ایسے بھی لائے گئے جو طبی امداد کے دوران چل بسے۔ خطرناک حالت والے تیس دیگر مریضوں کو نصف کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مقاصد اسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسّی سے لے کر سو کے درمیان مریض انتہائی نگہداشت کے شعبے میں تھے اور صرف پچیس تیس مریض ایسے تھے جنھیں شدید زخم نہیں آئے تھے۔ اس دوران فائرنگ اور بمباری کی آوازیں آتی رہیں۔ رات ہونے تک اسپتال کے زینے اور فر ش پناہ گزینوں سے بھر چکے تھے۔ ان کی تعداد کم و بیش دو ہزار تھی۔ تمام رات غزہ اسپتال کے ارد گرد کیمپوں سے شعلے اٹھتے رہے اور فائرنگ جاری رہی۔‘‘

مغربی بیروت سے فلسطینی جنگ جوؤں کے انخلا کے ساتھ ہی اسرائیلی فوجی اس علاقے میں گھس آئے۔ ترتیب دیے گئے پلان کے مطابق صابرہ و شتیلہ کے مہاجر کیمپوں کو نرغے میں لے لیا گیا۔ تمام کلیدی مقامات پر اسرائیلی فوجیوں کا کنٹرول تھا اور فرار کے تمام راستے مسدود تھے۔ کئی دنوں تک اسرائیلی فوج کی نگرانی میں وحشی درندے بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام کرتے رہے۔ شہر کو بجلی کی سپلائی معطل تھی اور بچ جانے والے بدقسمت افراد بھوک اور طبی امداد کے لیے بلک رہے تھے۔ اسرائیلی محاصرے میں آئے ہوئے ہزاروں بچے، خواتین اور مردوں کی بے بسی کی تصاویر اور خبروں سے دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف نفرت کی لہر دوڑ گئی مگر اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے خلاف پابندیوں کی آوازیں امریکی ویٹو کا شکار ہوگئیں۔

سنگاپوری ڈاکٹر نے مزید بتایا:

’’۱۷؍ستمبر کو غزہ اسپتال میں گولیوں سے زخمی ہونے والوں کا تانتا بندھا رہا۔ اسپتال کی فلسطینی منتظمہ اعلیٰ نے میڈیکل ورکروں کی فراہمی کے لیے بین الاقوامی ریڈ کراس سے رابطہ کیا اور پناہ گزینوں کے لیے امدادی سامان فراہم کرنے کی اپیل کی۔ دوپہر کو ہم غیر ملکی میڈیکل ورکروں کو خبردار کیا گیا کہ کوئی بڑا خطرہ منڈلارہا ہے، لہٰذا ہم اپنی حفاظت کا انتظام خود کرلیں۔ اسپتال میں پناہ لینے والوں کو اس کی انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اب اسپتال بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں رہی اور حملہ آور کسی بھی وقت ادھر کا رخ کرسکتے ہیں۔ یہ سنتے ہی دو ہزار سے زائد پناہ گزین جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑے ہوئے اور چند ہی لمحوں میں اسپتاک کے کوریڈور خالی ہوگئے۔ تب منتظمہ اعلیٰ نے اسپتال کے فلسطینی کارکنوں سے کہا کہ ابھی وقت ہے، آپ یہاں سے چلے جائیں۔ پھر وہ غیر ملکی میڈیکل ٹیم کے پاس آئے اور کہا کہ اگرچہ میں فلسطینی ہوں مگر مجھے بھی جان کا خطرہ لاحق ہے، لہٰذا میں جارہی ہوں۔ اس کے بعد ریڈکراس کی طرف سے خوراک اور ابتدائی طبی امداد کے آلات پہنچ گئے۔ تمام رات اسپتال میں مرگ آس خاموشی چھائی رہی۔ کبھی کبھار کیمپوں کی طرف سے فائرنگ کی آوازیں رات کا سناٹا چیرجاتیں۔‘‘

ڈاکٹر سوی چائی آنگ کا بیان تھا:

’’۱۸؍ستمبر کو صبح چھ بج کر ۴۵ منٹ پر غزہ اسپتال کی ایک امریکی نرس نے اسپتال کے باہر چند فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں بتایا۔ صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے ہم نے ایک ڈاکٹر باہر بھیجا۔ فوجیوں نے اپنے آپ کو لبنانی فوج کے جوان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال کا غیر ملکی عملہ ایک جگہ جمع ہوجائے، تاکہ شناخت پریڈ کرائی جاسکے۔ ایک نرس اور ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ کو چھوڑ کر باقی سارا عملہ فوجیوں کے ہمراہ ہولیا۔ ہمیں اسپتال سے دس منٹ کے فاصلے پر واقع یونیسف کی عمارت کے احاطے میں لے جایا گیا جہاں عورتیں اور مرد بڑی تعداد میں موجود تھے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کی تعداد آٹھ سو سے ایک ہزار کے درمیان ہوگی۔ ارد گرد کی، جزوی طور پر منہدم ہونے والی عمارتوں کا ملبہ بڑے سائز کے بلڈوزروں سے ہٹایا جارہا تھا۔ ان عمارتوں میں پڑی لاشیں اسی ملبے میں دفن ہورہی تھیں۔ ایک عورت نے اپنا بچہ ایک غیر ملکی ڈاکٹر کے بازوؤں میں دینے کی کوشش کی جسے اسرائیلی فوجی نے ناکام بنادیا۔ ہمارے کاغذات کی جانچ پڑتا ل کے بعد ہماری سیاسی وابستگیوں کے بارے میں بھی دریافت کیا گیا۔ زیادہ تر فوجیوں نے اپنے آپ کوعیسائی ظاہر کیا۔ ان کی وردی سبز تھی جو لبنانی آرمی کی یونیفارم نہ تھی۔ تقریباً ایک گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد ہمیں وہاں سے اسرائیلی ہیڈ کوارٹر لے جایا گیا۔

اسرائیلی کیمرہ ٹیم کی موجودگی میں ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ مریضوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے اور انہیں پانی اورغذا فراہم کی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد دو مرد ڈاکٹروں اور ایک مرد نرس کو واپس اسپتال بھیج دیا گیا اور باقی عملے کو دو گاڑیوں میں بھر کر امریکی سفارت خانے کے باہر ڈراپ کردیا گیا۔ جب ہم میں سے اکثر ڈاکٹروں نے واپس اسپتال جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو اسرائیلی افسروں نے ہمیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واپس جانا بہت خطرناک ہوگا کیونکہ اسپتال اب محفوظ جگہ نہیں رہی۔ جس نرس کو آتے وقت ہم اسپتال میں ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے چھوڑ آئے تھے، اس نے بعد میں بتایا کہ ہمارے آنے کے کوئی آدھ گھنٹے بعد مشین گنوں سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ گولیوں کی تڑتڑ میں عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار بھی شامل تھی۔ بیس منٹ بعد پھر ایک دم خاموشی چھا گئی۔

ساڑھے نو بجے کے قریب بی بی سی کا نامہ نگار، امریکی سفارت خانے کے باہر آیا اور اس نے بتایا کہ صابرہ چوک میں جگہ جگہ لاشوں کے ڈھیر پڑے ہیں جن میں زیادہ تر عورتوں اور بچوں کی لاشیں ہیں۔ دس بجے کینیڈا کے نامہ نگاروں نے لاشوں کے ان انباروں کی ویڈیو بنائی۔ ویڈیو دیکھی تو کلیجہ منہ کو آگیا۔ مردہ عورتوں اور بچوں میں سے اکثر وہ تھے جنھیں ہم نے یونیسف کی عمارت میں آتے وقت، قطاروں میں کھڑا دیکھا تھا۔‘‘

ڈاکٹر سوی چائی آنگ نے بتایا:

’’۱۹؍ستمبر ۱۹۸۲ء کو میڈیکل ٹیم کے ارکان صابرہ و شتیلہ کیمپ کی طرف لوٹ سکے۔ ہر طرف انسانی لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔ لوگوں کو اجتماعی طور پر گولیوں سے اڑا دیا گیا تھا۔ ایک جگہ ایک خاندان کی لاشیں پڑی تھیں۔ لگتا تھا سربراہ خانہ اپنے مقتول بیوی بچوں کی ڈھال بنتے ہوئے خود بھی اسرائیلی بہیمیت کا شکار ہوگیا ہے۔ انٹرنیشنل ریڈکراس کے مطابق اس وقت تک مرنے والوں کی تعداد پندرہ سو تھی۔ ہم نے کیمپ میں جانا چاہا لیکن دیکھا کہ کیمپ لبنانی ٹینکوں کے گھیرے میں ہے۔ دس پندرہ اسرائیلی ٹینک بھی واپس جاتے دکھائی دیے۔

اگلے روز غیر ملکی میڈیکل ٹیم سے بات چیت کی تو معلوم ہوا کہ ۱۷؍ستمبر کو اسپتال کی منتظمہ اور فلسطینی عملے کے جانے کے بعد نوجوانوں کا ایک گروپ آیا۔ انھوں نے غزہ اسپتال کے غیر ملکی میڈیکل عملے سے عربی بچوں کے بارے میں استفسار کیا۔ عربی میں دقت محسوس ہوئی تو جرمن میں پوچھنے لگے۔ یہ وہی بچے تھے جن کے کٹے ہوئے گلے دوسری صبح کو دیکھے گئے۔ ایک چھوٹا سا معصوم بچہ، جس سے اسپتال کا تمام عملہ پیار کرتا تھا اور جسے آخری بار ۱۷؍ستمبر کی صبح دس اور گیارہ بجے کے درمیان زندہ دیکھا گیا، دوسرے بچوں کے ہمراہ اسٹیڈیم میں مردہ پایا گیا۔ اس اسٹیڈیم کے بارے میں ایک اسرائیلی جنرل نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ حفاظتی ایریا ہے اور یہاں بچوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے کلینک کھولا گیا ہے۔ سینکڑوں بچوں کو اس ’’حفاظتی کلینک‘‘ میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

۲۲؍ستمبر ۱۹۸۲ء کو انٹرنیشنل ریڈکراس کے مطابق مرنے والوں کی تعداد چوبیس سو تک پہنچ گئی۔ مجھے اس بارے میں کوئی شبہ نہیں رہا تھا کہ یہ قتل عام اسرائیلیوں کی نگرانی میں ان کے آلہ کاروں یا ان کی اپنی فوج نے کیا۔ عیسائی ملیشیا کا حوالہ لبنانی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس طرح لبنان کے مسلمانوں اور عیسائیوں میں کشیدگی کو بڑھا وا دیا جاسکتا تھا۔‘‘

——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146