دہشت گردی سے لڑئیے فرقہ سے نہیں!

صفدر امام کاظمی

اگر کچھ لوگ دہشت گردانہ سرگرمیوں سے دنیا کو اپنے مطابق تبدیل کردینا چاہتے ہیں تو حقیقت میں دنیا کو ان کی خواہش کے مطابق تبدیل ہوجانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لیے دنیا میں جتنے بھی اتحاد قائم کیے گئے ان کا نتیجہ ہونا چاہیے تھا کہ ہماری زمین پر دہشت گردی کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ ان حقائق سے کوئی بڑا نتیجہ نہ نکالا جائے تب بھی اتنا تسلیم کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے کہ دہشت گردی اور دہشت گردی سے جنگ دونوں میں کوئی قانونی یا بنیادی کمی ہے جس کی وجہ سے کامیابی کسی کو بھی نہیں مل پارہی ہے۔ ایک لمحہ کے لیے گرایا گیا کوئی ایک بم یا کسی دہشت گرد کو مار گرانے کا کام اہم لگ سکتا ہے۔ لیکن حقیقت میں اس کام کو مطلق حقیقت سمجھ کر کوئی بڑی پالیسی وضع کرنے کا عزم ہماری جذباتی تنک مزاجی سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
ابھی حال ہی میں دہلی میں مختلف جگہوں پر بم دھماکے اور ہفتہ بھر میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس بٹلہ ہاؤس علاقہ میں مڈبھیڑ وغیرہ ایسے حادثات ہیں جن سے پیچیدہ مسئلے اور بھی زیادہ الجھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ پولیس یا اسپیشل ٹاسک فورس نے جس ٹیکنیکل طریقے سے سارا معاملہ پیش کیا ہے وہ بہت سے سوالوں کو اٹھانے کے لیے کافی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میڈیا سے لے کر مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے درمیان اتنا اختلاف نہ ہوتا۔ دہلی مہاراشٹر، گجرات، راجستھان یا ملک کے کسی حصہ میں کوئی بڑی یا چھوٹی دہشت گردانہ سرگرمی انجام دی جائے تو اس کا سیدھا سرا کشمیر، پاکستان اور داؤد ابراہیم تک جڑ جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ایران، عراق ہوتے ہوئے اسامہ بن لادن امریکہ سے لڑنے میں عالمی دشمن اور دہشت گردی کی شکل میں پہچانے گئے۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ سب اسلام کے ماننے والے ہیں اوراچھے یا برے مسلمانوں کی گنتی میں آتے ہیں۔ بچکانی منطق کا سہارا لے کر بہت سے لوگ اس بات سے عام قاعدہ بناتے ہوئے کہہ اٹھتے ہیں کہ تمام مسلمان دہشت گرد ہیں۔ یا ان کا ایک بڑا طبقہ دہشت گردی میں ملوث ہے یا مسلمان ان دہشت گردوں کی دل سے حمایت کرتے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ مدت تک ہمارے سکھ بھائی اسی درد اور بدنامی کا شکار رہے اور ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں ان کا چلنا پھرنا محال ہوگیا تھا۔ ہندوستانی حکومت کی خفیہ ایجنسی جس ماہرانہ طریقہ سے کسی حادثے کے سلسلے میں اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے اسے دیکھتے ہوئے اتنا یقین ہوجاتا ہے کہ وہاں بہترین کہانیاں گڑھنے والے لوگ موجود ہیں۔ پولیس اور خفیہ ایجنسی حادثہ کے پیچھے حادثہ بتانے میں عقلی طور سے اتنی یکسانیت پیش کرتی ہیں کہ کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے کہ جس خفیہ ایجنسی کے پاس کچھ ایک گھنٹوں میں واردات انجام دینے والوں کی سات پشت کے بارے میں پتہ ہوجاتا ہے۔ آخر واردات سے پہلے ان کی نیند کیوں نہیں ٹوٹتی۔ بٹوارہ کے حادثہ کو بیان کرنے والی افسانہ نویس سعادت حسن منٹو کی کتاب ’’سیاہ حاشیے‘‘ میں ایک چھوٹی سی کہانی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوتا ہے یا کسی کی جان چلی جاتی ہے تب وہاں پولیس کی ایک ٹکڑی بٹھا دی جاتی ہے۔ ایسا بار بار ہوتا ہے۔ منٹو کا کردار اکتا کر کہتا ہے کہ آخر پولیس کا دستہ وہاں پہلے سے کیوں نہیں بٹھاتے جہاں حادثے کے ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
ہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں کی یہی ٹریجڈی ہے کہ بڑے سے بڑے حادثے کا بھی اس کو پتہ نہیں ہوتا۔ بابری مسجد مسمار کردی جاتی ہے، پارلیامنٹ پر دہشت گردانہ حملہ ہوجاتا ہے لیکن یہ بعد میں ہی کچھ وضاحت کرپاتے ہیں۔
پورے ملک سے صرف اس کے اعداد وشمار جمع کرلیے جائیں کہ پولیس یا خفیہ ایجنسیوں نے اپنی عظیم قصہ گوئی کی بنیاد پر جن افراد کو خطرناک دہشت گرد مان کر گرفتار کیا ان میں سے کتنے لوگ مقدموں میں سزا پاسکے۔ مشکل سے دس فیصد لوگوں کو بھی پولیس عدالت سے سزا نہیں دلاپاتی لیکن جن نوے فیصد لوگوں کو پولیس نے پکڑا اور جنہیں سماجک طور سے تباہ کیا ان کا آخر کیا قصور؟ اگر پورے ثبوت نہیں تھے تو اتنے اونچے دعوؤں کے ساتھ انہیں کیوں گرفتار کیا جاتا ہے؟ سرائے میر، ا عظم گڑھ آج خفیہ ایجنسیوں یا پولیس کے نشانے پر ہے۔ ان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کا فیصد صرف پانچ ہو یا اس سے بھی کم لیکن پورا شہر کٹگھرے میں کھڑا ہے۔
بہ ظاہر یہ عجیب لگتا ہے کہ ایک طرف خفیہ ایجنسیاں ہیں دوسری طرف پولیس فورس اور تیسری طرف فرقہ پرستی کو ہوا دینے والے لوگ لیکن یہ کیسا کھیل ہے جس میں تینوں گروہ کی پلاننگ ایک ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ دہشت گردانہ اڈے کی شکل میں اب جلد ہی سیوان اور گوپال گنج کی بھی پہچان نہ ہوجائے۔ شہاب الدین (ایم پی) کی وجہ سے اکثر ایسی باتیں پریس میں آتی رہتی ہیں۔
دہشت گردی مسئلہ ہے۔ لیکن دہشت گردی سے لڑنے کا جو طریقہ تیار ہوا ہے وہ نہ تو امریکہ کا صحیح ہے نہ حکومتِ ہند کا۔ دونوں جگہ کہیں پر نگاہیں کہیں پر نشانہ والی کیفیت ہے۔ کم سے کم پورا مسلم معاشرہ یا اس کا نوجوان طبقہ اگر نشانہ پر رکھا جائے گا تو معاشرتی دھماکے کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کا بیان اس پس منظر میں تمام ہندوستانی مسلمانوں کے اندرونی جذبات و افکار کا ترجمان مانا جائے گا۔ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ نہ وہ مولوی ہیں نہ کوئی شدت پسند مسلمان۔ کئی بار وہ مسلم شدت پسندی کا شکار بھی ہوچکے ہیں۔ بھارت ایک سیکولر اور غیر جانبدار سماج ہے اور ہمارا دستور اس کی گارنٹی دیتا ہے۔ دہشت گرد کے نام پر کسی معصوم طالب علم یا مولوی کو پکڑ کر سماج اور ملک میں بدنام کرلینا پولیس یا خفیہ ایجنسیوں کی موجودہ منصوبہ بندی خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔ یہ کوئی سرسری یا عام قسم کی بات نہیں ہے۔ یہ ملک یا ایک گروہ کی شبیہ کو بگاڑنے کا منصوبہ نہ بن جائے اس کا خیال رکھنا ہی ہوگا۔
آزادی کی تحریک کے دوران ہم نے جس سماج کی تشکیل کی تھی اسے وزارتِ داخلہ یا پولیس کے نکمے پن کو چھپانے کے ہتھکنڈے سے کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ملک کے پالیسی سازوں کو ضرور اس پر غور وفکر کرنا چاہیے۔
(بشکریہ ہندوستان ہندی) ——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146