گوکہ موجودہ ٹیکنالوجی نے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہمیں ای بک اور موبائل بک کے جدید دور میں داخل کرادیاہے، پھر بھی ایشیا کے ترقی پذیر ممالک میں مطالعے کے فروغ میں بچوں کے رسائل بنیادی کردار ادا کررہے ہیں، اس لیے کہ ان رسائل و کتب میں شامل معلوماتی تحریریں، پہیلیاں، مزاحیہ، دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں، کارٹون بچوں میں مطالعے کے رجحانات میں اضافہ کرتے ہیں، بشرطیکہ معیاری، اچھی اور دستیاب ہوں۔
اسلامی و اخلاقی کہانیاں انہیں مستقبل میں معاشرے کا ایک مفید اور کارآمد شہری بنانے کے لیے راہ ہموار کرتی ہیں۔ اسی طرح سچی کہانیاں جن میں نصیحت اورہدایت کا پہلوہو، بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے ایک خوراک کی حیثیت رکھتی ہیں، کیوںکہ ان میں علم کا ذوق اورعمل کا شوق بڑھانے والا رسالہ ہی اچھی تربیت کا باعث بنتا ہے۔
بلاشبہ ماں کی گود بچوں کے لیے پہلی نرسری ہوتی ہے۔ بچہ اس دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد سب سے پہلے جس شخصیت سے مانوس ہوتا ہے، وہ اس کی ماں اور پھر باپ ہوتے ہیں۔ بچے کی شخصیت سازی کا دارومدار ماں، باپ کی جانب سے ابتدائی عمر میں فراہم کی گئی تربیت پر ہی ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے آج کا دور سائنس کا دور ہونے کے ناطے جہاں انسان کو گونا گوں سہولیات فراہم کرنے کا ذریعہ بنا ہے وہیں اس دور نے ماں باپ کو اپنے بچے کی تربیت کے معاملے میں غافل کردیا ہے۔ اس لیے کہ ہم برگر فیملی بن کر رہ گئے ہیں۔ کیوں کہ آج کے دور میں انسان کی بنیادی ضروریات میں ایسی ایسی باتیں شامل ہوگئی ہیں، جنہیں ماضی میں اشیائے تعیش میں شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم اب ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بیشتر گھرانوں میں نہ صرف باپ بلکہ ماؤں کو بھی اپنے بچوں کی تربیت کے لیے کم وقت میسر آتا ہے۔
ایسی صورتِ حال کی وجہ سے ٹیلی ویژن اور کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ بچوں کے رسائل کی اہمیت میں بھی گونا گوں اضافہ ہوا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک بالخصوص یورپ میں بچوں کی تربیت اور پرورش سے متعلق باقاعدہ وزارتیں قائم ہیں جن کا بنیادی مقصد ملک کے نونہالوں کو بہتر تربیت کی فراہمی کے لیے ضروری ماحول فراہم کرنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسی کوئی وزارت نہ صرف یہ کہ موجود نہیں ہے، بلکہ سرکاری تعلیمی نظام انتہائی سطحی اور غیر معیاری انداز میں چلنے کے بجائے گھسٹ رہا ہے۔
اس وقت ہندی اور انگریزی زبانوں میں تو بچوں کے معیاری رسالوںکی بھر مار ہے، لیکن افسوس ہے کہ اردو زبان میں جو ہندوستان میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کی زبان ہے معیاری، تعمیری و اخلاقی رسائل کی بڑی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اور جو رسائل نکلتے ہیں ان کی خریداری کے سلسلے میں تعلیم یافتہ اور معاشی اعتبار سے مطمئن خاندان بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ یہ ایک بڑا خسارہ ہے جو آج اردو داں خاندانوں کے بچے جھیل رہے ہیں۔ جبکہ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت اردو زبان میں بچوں کے لیے لکھنے والوں کا بھی قحط شروع ہوگیا ہے۔ بچوں کے لیے کہانیاں اور معیاری و مناسب حال نظمیں پیش کرنے والے شعرا خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ جبکہ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے اپنی انقلابی شاعری میں بھی بچوں کی اہمیت کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ انھوں نے بچوں کے لیے کئی نظمیں تحریر کیں، بلکہ ’’جاوید اقبال‘‘ کے لیے تو پنجابی زبان میں بھی شاعری کی۔ علامہ اقبالؒ کی مشہور دعائیہ نظم ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ آج نہ صرف برصغیر پاک و ہند بلکہ دنیا بھر کے ان ممالک کے بچوں میں بھی مقبول ہے، جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ یہی نہیں علامہ اقبالؒ کی اس نظم کو عربی اور فارسی کے شعرا نے ترجمہ کرکے اسے مشرقِ وسطیٰ اور ایران میں بچوں کی مقبول دعا کی حیثیت دلوادی ہے۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے بچوں کے لیے لکھی گئی ہر نظم میں انہیں سبق دیا ہے، بالخصوص بچوں میں حب الوطنی اور ملک کے لیے کچھ کر گزرنے کی جو تڑپ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے پیدا کی ہے، اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔
پاکستان میں تو پھر بھی بچوں کے لیے کافی کام ہوا ہے لیکن ہمارے ملک میں بچوں کے لیے لکھنے والے تیار نہیں ہوسکے۔ ہلال، رامپور، اچھا ساتھی بجنور، دہلی سے نکلنے والے رسائل ’امنگ‘ اور ’پیامِ تعلیم‘ کے علاوہ کوئی خاص قابلِ ذکر بچوں کے رسائل نظر نہیں آتے۔ اپنے معیار کو برقرار رکھنے اور بچوں کو مفید چیزیں دینے میں انھیں بھی کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اکثر و بیشتر یہ بھی پاکستانی قلم کاروں اور رسائل سے استفادہ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
جہاں تک سرکولیشن کا سوال ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردوکے اکثر رسائل جن میں بچوں کے رسائل خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں اپنے قارئین کی طرف سے بے توجہی کا شکار ہیں۔ ایسا شاید اس وجہ سے ہے کہ ان کے بچے غیر اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ یہ بات درست ہوسکتی ہے مگر بلند اخلاقی قدروں اور اسلامی نظریہ کی قوت کو فروغ دینے والے جو بھی رسائل ہیں وہ صرف اردو ہی میں دستیاب ہیں۔ چنانچہ اگر والدین اپنے بچوں میں کچھ دینی جذبہ اور معلومات کا فروغ چاہتے ہیں تو اردو رسائل کی ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں کرسکتے۔
بچے جب پڑھنا لکھنا سیکھتے ہیں تو انہیں کہانیاں اور نظمیں پڑھنے کا شوق ہوتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں پڑھنے کے لیے کچھ دلچسپ چیزیں ملتی رہیں۔ ایسے میں اگر انہیں مناسب مواد مطالعے کے لیے فراہم کیا جائے تو ان کی معلومات میں اضافے کا بھی ذریعہ بنتاہے اور ان کے شوق مطالعہ کی تسکین کے ساتھ ساتھ مزید مطالعہ کرنے کی رغبت بھی پیدا کرتا ہے۔ اور اگر یہ رجحان بچوں میںابتدائی عمر میں فروغ پاجائے توزندگی کے اگلے مراحل میں بڑا مفید اور کارآمد ثابت ہوتا ہے۔
اس سلسلے میں کتابوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رسائل بچوں کو ہر ماہ مختلف تازہ ترین معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح رسالہ اور کتاب میں فرق کرنا ضروری ہے۔ بچوں میں صحت مند مطالعہ کا شوق فروغ دینے اور شوق مطالعہ کی تسکین میں انتخاب کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اگر مناسب اور غیر مناسب کا فرق نہ کیا جائے تو بچوں کے لیے یہ آسان ہوجاتا ہے کہ وہ ایسے مطالعہ کی عادت میں مبتلا ہوجائیں جو ان کے لیے مفیدکے بجائے مضر ثابت ہو۔ اس میں سرِ فہرست ہم کامکس کتابوں کو رکھ سکتے ہیں جن کی بعض بچوں کو ایسی لت لگ جاتی ہے کہ وہ نصابی کتابوں تک کو نظر انداز کرکے ان کا مطالعہ کرتے ہیں۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بچوں کی شخصیت سازی، ان کی مخفی صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور نکھارنے میں بھی رسائل و جرائد کا اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اس وقت تقریباً تمام قومی اخبارات ہفتے میں ایک دن بچوں کا ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ بچوں کے ان صفحات میں اکثر و بیشتر بچوں کو کہانیاں یا اپنی معلوماتی تحریریں بھیجنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جس سے بچوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ بلاشبہ ایسے تمام مدیران اپنی ان کاوشوں کے لیے خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنھوں نے اپنا قیمتی صفحہ بچوں کی نذر کردیا ہے۔ مگر اردو اخبارات و رسائل یہاں بھی بہت پیچھے ہیں جبکہ اردو داں خاندانوں کے بچے دوسری زبان کے معیاری ضمیموں سے محروم ہیں۔
آج کا دور سائنسی دور ہے۔ دنیا نے جہاں ہر شعبے میں قابلِ ذکر ترقی کی ہے وہیں بچوں کی تعلیم و تربیت کا شعبہ بھی بہت آگے جاچکا ہے، جب کہ ہم آج تک اسی پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ آج جب کہ ’’ای بکس اور موبائل بکس‘‘ کا اجراء ہونے کے بعد یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ ایک معمول کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، ہمارے نونہالوں کی اکثریت ایسی ترقی یافتہ ڈیوائسز سے تاحال نامانوس ہے۔ یہی نہیں اب تو ڈیجیٹل ڈکشنری بھی آگئی ہے جو کہ بٹن دباتے ہی الفاظ کے معنی بتادیتی ہے۔ جس سے آکسفورڈ اور دوسری ڈکشنریوں کے صفحات کو الٹ پلٹ کر معنی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔
بلاشبہ بچوں کے رسائل ان میں مطالعہ کے ’’ذوق و شوق‘‘ کو فروغ دیتے ہیں، لیکن ایسا اس وقت ممکن ہوگا جب ہمارے بچے پرائمری تعلیم کے مدارج طے کررہے ہوں گے۔ تعلیم سے نابلد بچوں کے لیے آپ کتنی بھی خوبصورت، رنگین اور سبق آموز کہانیاں شائع کریں، تعلیم کو فروغ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اس وقت تک بچوں کو مناسب اور ضروری لٹریچر فراہم نہیں ہوسکتا جب تک والدین، اس طرف متوجہ ہوکر اسے اپنے بچوں کے لیے بنیادی ضرورت تصور نہ کریں۔
بچے عمر کے ابتدائی مرحلے میں خریداری اور انتخاب دونوں کے لیے والدین پر ہی منحصر ہوتے ہیں اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ جس طرح اپنے بچوں کے لیے بہترین اسکول اور اچھی غذا اور دیگر ضروریات فراہم کرتے ہیں اسی طرح انہیں تعلیمی و تربیتی رسائل بھی فراہم کریں جو ان کے ذہن و فکر کی تربیت بھی کرسکیں اور ان کے اندر علم کا شوق پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معلومات کاخزانہ بھی دیں۔
——





