ایک حقیقت ایک افسانہ

رضیہ اعوان، برمنگھم

وہ میرے آفس میں سر جھکائے بیٹھی تھی۔ بہت اداس اور کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی۔ چہرے پر وحشت اور آنکھوں میں ویرانی چھائی ہوئی۔ زوبی میری بہت اچھی دوست ہے۔ میں اس کے گھریلو حالات سے بھی اچھی طرح واقف ہوں۔ وہ کبھی کبھار اسی قسم کی پریشان صورت لیے میرے پاس آجاتی ہے اور میں بھی شاید اس کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام کرجاتی ہوں۔ جبھی وہ اگلی دفعہ پھر آن موجود ہوتی ہے۔ زوبی کی کہانی ہم اس کی زبانی سنتے ہیں۔
میرا نام زبیدہ ہے۔ سب پیار سے مجھے زوبی کہتے ہیں۔ میری کہانی اصل میں میرے والدین سے شروع ہوتی ہے جس کا ایک کردار میں بھی ہوں۔ میرا تعلق پنجاب کے ایک معزز گھرانے سے ہے۔ تقسیم ہند کے وقت جہاں بہت سے خاندان منتشر اور تتر بتر ہوگئے۔ میرا خاندان بھی بکھرا۔ کچھ ہجرت کرگئے۔ تلاش روزگار کی وجہ سے کئی ایک نے شہروں کی راہ لی اور کچھ نے زمینوں کی دیکھ بھال شروع کردی۔ میرے نانا چونکہ سرکاری ملازم تھے اس لیے ان کی رہائش شروع سے ہی شہر میں رہی۔ ان کے خاندان کے کچھ افراد ابھی بھی گاؤں میں رہائش پذیر تھے۔
بچوں کی شادیوں کا وقت آیا تو اور رشتوں کے ساتھ ساتھ گاؤں سے بھی رشتے آنا شروع ہوئے۔ لیکن میری نانی نے صاف کہہ دیا کہ میری بچیاں شہر میں پلی بڑھی ہیں، ان کا گزارا گاؤں میں نہیں ہوگا۔ لیکن ایک پھوپھی نے تو وہاں ڈیرہ ہی ڈال دیا کہ میں تو اپنے بیٹے کے لیے یہیں سے رشتہ لوں گی۔ ادھر ایک اصرار تھا اور دوسری طرف انکار۔ میرے نانا تو بیچ میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ کبھی بیوی کی طرف دیکھتے تو لگتا کہ وہ حق بجانب ہیں، اور جب بہن کی طرف دیکھتے تو لگتا کہ وہ بھی بہت امید سے بھائی کے پاس آئی ہیں، جب کہ وہ بیوہ بھی ہوگئی تھیں۔ ان کے سسرال کی زمینیں وغیرہ کافی تھیں۔ اس لیے انھوں نے اپنی رہائش گاؤں میں ہی رکھی۔ ان کے دو بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں۔ بڑی تین بیٹیوں کی شادیاں ہوچکی تھیں۔ اور وہ اپنے اپنے گھروں میں آباد تھیں۔ ان کے بڑے بیٹے زمینداری ہی کرتے تھے۔ پڑھائی ان کی بس واجبی سی تھی۔ اگرچہ انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا، لیکن بڑا ہونے کی وجہ سے والد کی وفات کے بعد انھوں نے گھر کی ذمہ داری اٹھالی تھی۔ اب وہ اپنا سارا شوق چھوٹے بہن اور بھائی کو پڑھا کر پورا کرنا چاہتے تھے، لیکن چھوٹے بھائی کو پڑھنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ اس پر آوارہ مزاج دوستوں کی صحبت نے انہیں بالکل نکما بنادیا تھا۔ گھر میں پیسے کی کمی نہ تھی جس نے انہیں اور بھی بے فکر بنادیا تھا۔
جیسا کہ سارے نکمّے بیٹوں کی مائیں یہ سمجھتی ہیں کہ شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میری امی کی پھوپھی بھی یہی سمجھتی تھیں کہ بہو آکر اس کو ٹھیک کردے گی۔اس لیے وہ اپنے بیٹے کے سر پر سہرا دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں۔ بڑے بیٹے نے گھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے شادی سے تب تک کے لیے صاف منع کردیا تھا جب تک کہ چھوٹی بہنیں اپنے گھروں کی نہ ہوجاتیں۔ چھوٹی بہن ابھی کافی چھوٹی تھیں۔ کیونکہ درمیان میں ان کے دو بچے صغر سنی ہی میں فوت ہوگئے تھے۔
میرے نانا کو بھانجے کی ان ساری حرکات کی کچھ سن گن تھی۔ لیکن بہن نے بہلا پھسلا کر کہ اکیلا ہے اس لیے ایسا ہے۔ ذمہ داری کا بوجھ پڑے گا تو ٹھیک ہوجائے گا وغیرہ وغیرہ کہہ کر ان کو رضا مند کرلیا اور ساتھ ہی میری نانی کا یہ ڈر کہ شہر کی پلی ہوئی گاؤں میں کیسے رہی گی یہ کہہ کر دور کردیا کہ آج کل شہر اور گاؤں میں کونسا فاصلہ یا دوری رہ گئی ہے، اور شہر کی سب سہولتیں گاؤں میں بھی موجود ہیں۔ بجلی کی سہولت بھی ہے اورپکی سڑک ہونے کی وجہ سے آنے جانے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ گھر میں گاڑی موجود ہے۔ ان کے بے پناہ اصرار پر میرے نانا ونانی کو ہاں کرتے ہی بنی۔
شادی ہوئی تو شروع کے دن تو چاؤ چونچلوں میں گزرگئے۔ اس کے بعد میرے والد کے پھر سے وہی لیل و نہار تھے۔ اب بجائے ذمہ داری اٹھانے کے اور بھائی کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے کے انھوں نے پھر سے اپنے آوارہ اور نکمے دوستوں کی محفل آباد کرلی۔ میری دادی انہیں ہر وقت سمجھاتیں کہ بہو یہاں کے ماحول کی عادی نہیں ہے۔ اس کو اپنے آپ سے اور ماحول سے مانوس کرو۔ اس کے ساتھ وقت گزارو تاکہ اس کا دل یہاں لگ سکے۔ لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگتی۔ میری والدہ چونکہ اس طرح کی زندگی کی عادی نہ تھیں انھوں نے اپنی والدہ کو بلا بھیجا۔ شوہر کی طرف سے بے اعتنائی نے انہیں ایک دوسرے سے میلوں دور کردیا تھا۔ وہ اداس اداس سی رہنے لگیں۔ اپنی والدہ کے آتے ہی انھوں نے سارے حالات انہیں گوش گزار کیے۔ میری نانی جو پہلے ہی وہاں بیٹی نہ دینے کے حق میں تھیں، انہیں اپنے ساتھ شہر لے گئیں۔ دادی نے بھی سوچا کہ چلو کچھ دن وہاں رہ آئے تاکہ اس کی اداسی دور ہوسکے، لیکن میرے والد کو اس کی بھی زیادہ پرواہ نہ تھی۔ انہی دنوں دادی کی طبیعت کافی ناساز رہنے لگی۔ علاج کے لیے پہلے تو گاؤں کے حکیم سے ہی رجوع کیا۔ لیکن جب افاقہ نہ ہوا تو میرے تایا ایک دن انہیں شہر ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ان کے معائنے کے بعدڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ تجویز کیے، اور جب رزلٹ آیا تو پتہ چلا کہ انہیں کینسر ہے۔ علاج فوراً شروع کروادیا گیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ وہ بہتر نہ ہوسکیں۔ اور انہی حالات میں ایک دن ان کا انتقال ہوگیا۔ میرے والد کو جو کہ اپنی والدہ سے بہت محبت کرتے تھے، اب روک ٹوک کرنے والا کوئی نہ رہا۔ اس لیے ان کا زیادہ تر وقت باہر گزرنے لگا۔ اگر کوئی انہیں کچھ کہتا تو جواب یہ ملتا کہ میں ماں کے بغیر اس گھر میں نہیں آسکتا۔ یہ حالات دیکھ کر میری بڑی پھوپھی بھائی کو اپنے ساتھ شہر لے گئیں، اور انہیں وہاں نوکری بھی دلوادی۔ مصروفیت سے میرے والد کی طبیعت میں کچھ ٹھہراؤآگیا۔ اب وہ کئی کئی مہینے بعد گاؤں آتے۔ میرے تایا جو کہ بہت ہی شریف النفس انسان تھے، لیکن ان کی تجرد کی زندگی کی وجہ سے گھر میں سوائے چھوٹی بہنوں کے اور کوئی نہ تھا اس لیے ادھر میری والدہ کا گاؤں میں اکیلے رہنا مشکل تھا۔ ان کے لیے یہی بہانہ کافی تھا۔ ادھر نانی چونکہ شروع سے بیٹی کو وہاں گاؤں بیاہنے پر راضی نہ تھیں وہ بھی آئے دن بہانوں سے بیٹی کو شہر بھیجنے کے لیے تیار نہ ہوتیتھیں۔ والد کا اصرار کہ وہ وہیں گاؤں میں رہیں تاکہ چھوٹی بہنوں کی پرورش اور ذمہ داری کو نبھائیں لیکن ان کی اپنی ضد کہ میں گاؤں میں نہیں رہ سکتی۔ اب ان حالات میں بڑی بہنوں نے کوشش کرکے تایا کی شادی بھی کروادی۔
میرے والد کو گھر کی طرف سے ایک طرح کی آزادی میسر ہوئی تو انھوں نے اپنے کام میں کچھ دلچسپی بھی لینی شروع کی۔ ان کے کام سے خوش ہوکر کمپنی کے مالک نے ان کو اپنی دوبئی کی برانچ میں ٹرانسفر کردیا۔ اب حالات بدلنا شروع ہوئے تو سب کی نظریں میرے والد کے باہر سے آنے والے درہم و دینار پر تھیں۔ میری والدہ نہ بسی نہ اجڑی والی کیفیت میں تھیں۔ والد گاؤں جاتے تو وہ ان کے ساتھ چلی جاتیں، لیکن ان کے جاتے ہی اپنی والدہ کو پیغام بھیج دیتیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ لے جاتیں۔ انہی دنوں میری دنیا میں آمد ہوئی۔ لیکن میرے والدین ابھی تک دریا کے دو کناروں کی مانند ایک دوسرے سے دور تھے۔ کوئی ذہنی ہم آہنگی نہ تھی۔ ان حالات میں آہستہ آہستہ وہ رشتہ دار جو انہیں نکما جان کر اپنی بیٹیوں کے لیے مناسب نہ سمجھتے تھے۔اب میری والدہ کے خلاف ان کے کان بھرنے لگے، اور اپنے لیے راہیں ہموار کرنے لگے۔ میری والدہ نے پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کو بھی سمجھنے کی کوشش نہ کی، اور پھر وہی ہوا جو ایسے حالات میں ہوتا ہے۔ یعنی میرے والد میری والدہ سے اتنے بدظن کردیے گئے کہ انھوں نے دوسری شادی کرلی اور میری والدہ کو طلاق کا خط بھیج دیا۔
وہ طلاق کا خط نہیں تھا، میرے ننھیال کے گھرانے پر گویا ایٹم بم تھا جو کہ گرا۔ گھر میں ایک طوفان برپا ہوگیا۔ میری نانی کو تو گویا بہانا مل گیا، میرے نانا کو برا بھلا کہنے کا۔ یہ سلسلہ پتہ نہیں کب تک چلتا لیکن ایک دن نانا نے چپکے سے آنکھیں موند لیں۔ اب یہ دوہرا صدمہ تھا۔ لیکن اس میںانھوں نے اپنا قصور نہیں دیکھا کہ میں بھی بیٹی کے بسنے کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ الٹا میرے ماموؤں کو اکسایا کہ تمہاری بہن کو بلاوجہ طلاق دے دی گئی اور تمہاری غیرت کو کچھ نہیں ہوتا۔ اب وہ ان طعنوں سے جوش میں آکر ایک دن گاؤں بدلہ لینے جاپہنچے۔ میرے والد کا تو ظاہرہے کہ گاؤ میں ملنا مشکل تھا لیکن غریب تایا کی شامت آگئی۔ ان کو خوب پٹوایا گیا اور اس طرح اپنی طرف سے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کیا گیا۔ والد کو جان کا خطر ہ تھا۔ اس لیے انھوں نے مستقل رہائش دوبئی میں اختیار کرلی اور اپنی بیوی کو بھی وہیں بلالیا۔ اس طرح ان سے زندگی بھر کا ناطہ ٹوٹا۔ نہ انھوں نے کبھی پلٹ کر میری خبر لینے کی کوشش کی نہ میرے کسی دوسرے ددھیالی رشتہ دار نے۔ میری پھوپھیاں اگرچہ دور نہیں تھیں لیکن خاندان تو بالکل تقسیم ہوکر رہ گیا تھا۔ جو میرے ددھیال والوں سے ملتے تھے وہ ننھیال والوں سے نہیں مل سکتے تھے۔
اب ان نفرتوں کے ماحول میں میری پرورش ہوتی ہے۔ میری والدہ اور نانی کا سارا دن انہی باتوں میں گزر جاتا۔ وہ ابھی بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کررہی تھیں۔ لیکن میری والدہ کا یہ کہنا کہ اگر ماں اس وقت ان کو عقل دے دیتی تو یہ حالات نہ ہوتے، گویا جلتی پر تیل کا کام کرتا ۔ اب دونوں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتیں، اور میں ایک طرف بیٹھی خاموش تماشائی کی طرح دیکھتی۔ اب جیسے جیسے میں بڑی ہورہی تھی میری شخصیت الجھتی جارہی تھی۔ کیونکہ کبھی تو ماں کو قصور وار سمجھتی اور کبھی نانی کو۔
نانی جب میری پڑھائی کی بات کرتیں تو ہمیشہ کہتیں کہ یہ تو وکیل بنے گی۔ شروع میں تو سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ وہ ایسا کیوں کہتی ہیں لیکن وقت نے یہ بھی سمجھا دیا کیونکہ اب میرے والد کے پاس کافی پیسہ تھا اور وہ چاہتی تھیں کہ میں اپنا مقدمہ خود لڑوں۔ وراثت کا بھی اور اپنے حق کا بھی۔ اب مجھے بھی اپنے والد سے نفرت ہونے لگی تھی کہ انھوں نے طلاق تو میری والدہ کو دی تھی مجھے تو نہیں۔ تو کیا میں ان کو کبھی یاد نہیں آتی تھی؟ لیکن اتنے سالوں کا پھیر اس بات کا گواہ تھا کہ انھوں نے کبھی بھی مجھ سے ملنا گوارا نہیں کیا تھا۔ میری والدہ اپنے حالات سے پریشان۔ نانی بیٹی کے دکھ میں گم، اور میں… اپنے دکھوں میں گم۔
اور ان ساری باتوں نے میری ذات میں ایک عجیب طرح کی کڑواہٹ بھردی تھی۔ میں کسی کے ساتھ نارمل طریقے سے بات نہیں کرسکتی تھی۔ میں ایک نفسیاتی مریض بنتی جارہی تھی۔ دن بدن زندگی سے دور ہوتی جارہی تھی۔ اپنے ہی دکھوں میں گھری ہوئی۔ کسی کو اپنے بچوں سے پیار کرتا دیکھتی تو اپنا احساس محرومی سامنے آجاتا، اور میں زور زور سے چلانے لگتی۔ والدہ چپ کرانے کی کوشش کرتیں تو ان کے ساتھ بھی بدتمیزی سے پیش آتی۔ گھر میں ماموں کے بچوں کے ساتھ کھیلنا اور بات کرنا بھی مجھے گوارا نہ تھا۔ بات بات پر ان سے بھی لڑ پڑتی۔ چھوٹوں کی پٹائی کرنے سے بھی گریز نہ کرتی۔ میری کوئی ایسی دوست نہ تھی جس سے میں دل کی بات کرسکتی۔ مجھے کسی پر بھی اعتبار نہیں تھا۔ ہر رشتہ بناوٹی لگتا۔ گھر میں بھی سب اپنے دشمن نظر آتے۔ نانی اور والدہ تو خاص طور پر کہ انھوں نے اگر اس وقت میرے متعلق سوچا ہوتا تو میں آج ان حالات میں نہ ہوتی۔ میں بھی اپنے باپ کی شفقتوں میں ہوتی اور ایک نارمل انسان ہوتی…
زندگی اسی طرح گزرتی جارہی تھی، اور میں اسکول میں اپنی پڑھائی کی منزلیں طے کررہی تھی۔ گھر کے ماحول سے فرار کے لیے اسکول ایک طرح سے میری پناہ گاہ بھی تھا۔ ایک جنون سوار تھا کہ مجھے وکیل بن کر اپنے والد سے اپنا حق لینا ہے۔ ان کو کورٹ میں کھینچ کر لانا ہے۔ تاکہ وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوکر میرے سوالو ںکا جواب دے سکیں۔ میں دن رات کتابی کیڑا بنی صرف ایک ہی بات پر دھیان جمائے ہوئے تھی۔ انہی دنوں قانون کی کلاس میں میری ملاقات صوفیہ سے ہوئی۔ وہ مجھے پہلی ملاقات میں ہی اپنی سی لگی۔ ایک بہن کی طرح، اور تب سے ہی وہ میری بہترین دوست ہے۔ ہر وہ بات جو میں کسی سے نہیں کہہ سکتی اس کے ساتھ شیئر کرلیتی ہوں۔
اور پھر وہ دن بھی آگیا جب میں نے قانون کی ڈگری حاصل کرلی۔ میری والدہ تو اس دن بہت خوش ہوئیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں ان کا بھی انتقام لے سکتی ہوں۔ لیکن میں تو … کچھ اور ہی سوچ رہی تھی۔ میری معلومات کے مطابق میرے والد اب واپس وطن آچکے تھے اور ایک بڑے شہر میں رہائش پذیر تھے۔ خوب صاحبِ جائداد تھے۔ لیکن مجھے ان کی جائداد سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ میرا مسئلہ تو کچھ اور تھا، اور پھر ایک دن بہت سوچ بچار کے بعد میں نے دو عدالتی سمن نکلوائے اور دو الگ پتوں پر بھجوا دیے۔ جی ہاں! حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ میرے مجرم میرے دونوں والدین ہی تو تھے۔
گھر میں جب عدالت کا سمن پہنچا تو ایک فطری ردِ عمل تھا جو سامنے آیا۔ والدہ کا اور نانی کا غصے کے مارے برا حال تھا۔ بات کچھ ان کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ کیونکہ مقدمہ میری طرف سے دائر کرایا گیا تھا، اور وہ بھی دونوں والدین کے خلاف۔ بہت باتیں سننی پڑیں کہ کیا اسی دن کے لیے وکالت پڑھائی تھی کہ ہمیں ہی عدالتوں میں گھسیٹو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میں نے ان کو کوئی جواب نہ دیا، اور خود اپنے کیس کی تیاری کرتی رہی۔ وہ گھٹن جو پچھلے بائیس سال سے میرے اندر تھی اس کو نکالنے کا موقع آگیا تھا۔
اور پھر عدالت میں میںنے اس شخص کو پہلی بار دیکھا جس کو میرا باپ ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ شخص جس کی صورت تک سے میں نا آشنا تھی۔ کبھی تصور بھی کرنا چاہتی تو کوئی خیالی تصویر تک نہ بنا پاتی۔ جب اچانک آمنا سامنا ہوا تو وہ میرے خیال سے بالکل مختلف شخصیت تھی۔
میرے اس انوکھے مقدمے کی میڈیا نے بھی خوب پذیرائی کی، کہ یہ اپنی قسم کا شاید پہلا مقدمہ تھا، جس میں ایک بیٹی نے اپنے والدین کو اپنے حق کے لیے مجرموں کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا تھا۔ ایک طرف میری والدہ تھیں جنھوں نے میری پرورش میں دن رات ایک کیے تھے اور دوسری طرف وہ باپ جنہیں شاید میں کبھی یاد بھی نہ آئی تھی۔ یہی میری بحث کا نقطہ آغاز تھا۔ دونوں نے اپنی اپنی صفائی پیش کی، لیکن میرے سوال کا جواب کسی کے پاس نہ تھا کہ مجھے کس جرم کی سزا دی گئی تھی۔ میرے حصے میں کیوں ایک ٹوٹا ہوا خاندان آیا۔ مجھے کیوں باپ کی شفقت سے محرومی دی گئی؟ میرا قصور کیا تھا…؟
دونوں ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے رہے۔ کبھی ایک مظلوم لگتا تو کبھی دوسرا۔ والدہ اس ساری کارروائی کے دوران زیادتی کا شکار لگ رہی تھیں۔ میں انہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی لیکن میں مجبورتھی۔ مجھے بھی تو انصاف چاہیے تھا۔ سب کے بیانات سننے کے بعد عدالت نے مجھ سے سوال کیا کہ اب آپ بتائیں کہ آپ کیا چاہتی ہیں…؟
مقدمے کے دوران یہ بات بھی زیرِ بحث آئی تھی کہ میری والدہ کو طلاق کا صرف ایک نوٹس ملا تھا۔ انھوں نے میری پرورش کی خاطر کبھی بھی دوسری شادی کا نہیں سوچا تھا۔ تو کیا اب وہ دونوں دوبارہ ایک ہوسکتے ہیں…؟ میرا سوال ان دونوں سے یہ تھا۔ وہ زیادتی جو انھوں نے جانے انجانے میرے ساتھ کردی تھی۔ کیا اب وہ اپنی اپنی اَنا کو مار کر صرف میرے لیے… مجھے انصاف دینے کے لیے دوبارہ زندگی کے سفر میں اکٹھے چل سکتے ہیں…؟ میں سوالیہ نشان بن کر ان کے سامنے کھڑی تھی۔ اگر اب انھوں نے اپنی غلطی کو مان لیا تھا تو کیا وہ اس کا ازالہ کرنے کے لیے تیار تھے…؟
اس سے پہلے کہ وہ دونوں کوئی جواب دیتے میرے ’’باغیرت‘‘ ماموں کھڑے ہوگئے۔ یہ ناممکن ہے، وہ سب بیک زبان بولے۔ یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟ لیکن عدالت نے ان کو چپ کروادیا۔ سوال چونکہ میرے والدین سے تھا تو جواب بھی انہی کو دینا تھا۔ والد تو اس حد تک شرمندہ تھے کہ وہ ہم دونوں ماں بیٹی سے معافی مانگ کر اپنے گناہ کا اقرارکرچکے تھے اور اپنی غلطی کی تلافی کے لیے تیار تھے۔ میری والدہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ایک طرف ان کے گھر کا وہ سکھ جو وہ کھوچکی تھیں، پھر سے ان کا منتظر تھا، اور دوسری طرف وہ بھائی تھے، جنھوں نے اتنا عرصہ ان کی اور ان کی بچی کی دیکھ بھال کی تھی۔وہ بہت زیادہ کشمکش میں تھیں۔ کبھی وہ ماں کی طرف دیکھتیں۔ میں… جو ایک آس لیے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ جانتی تھیں کہ میری شخصیت تبھی نارمل ہوسکے گی جب وہ یہ قدم اٹھائیں گی۔ لیکن ان کے لیے فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل ہورہا تھا۔ اخیر میری نانی کھڑی ہوئیں کہ میں بھی کچھ کہنے کی اجازت چاہتی ہوں۔ عدالت کی اجازت سے انھوں نے کہا کہ بیٹی! یہی وقت ہے کہ تم اپنی بیٹی کا وہ حق اس کو دو جس سے وہ اب تک محروم ہے، اور بیٹوں کو انھوںنے کہا کہ جب اللہ کی طرف سے اجازت ہے کہ اگر میاں بیوی آپس میں صلح کرنا چاہیں تو تم ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بنو۔ تمہاری بہن نے کافی دکھ اٹھالیے ہیں۔ اب اس کو اپنے حصے کی خوشیاں لے لینے دو۔
اس ساری بات چیت کے بعد میری والدہ کے لیے بھی فیصلہ کرنا آسان ہوگیا۔ انھوں نے بھی اپنی غلطی کو عدالت کے سامنے تسلیم کیا اور کہا کہ وہ بھی اس کی تلافی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اپنی بچی کو اس کی وہ خوشیاں لوٹانے کے لیے جو انھوں نے بطورِ والدین اس کو نہیں دیں۔ میرا اس وقت خوشی کے مارے برا حال تھا۔ اپنے رحمان و رحیم رب کے لیے تشکر کے آنسو میری آنکھوں سے جاری تھے۔ کہ جس نے مجھے یہ راہ سجھائی ورنہ مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب میں گھر والوں سے ناراض انتہائی غصے کے عالم میں اپنی دوست صوفیہ کی طرف گئی تھی۔ وہ میرے سارے حالات جانتی تھی۔ اس نے مجھے بہت آرام سے سمجھایا کہ میں یہ راہ اختیا رکروں۔ عدالت کے دروازے پر دستک دوں۔ اس سے مجھے بہت حد تک سکون ملے گا۔ چونکہ یہ چیز شروع سے میرے اندر پک رہی تھی اس لیے ایسا کرنے میں شاید میری نجات ہو، اور کیا خبر اللہ اس کے اندر ہی کوئی راستہ نکال دے۔ اس لیے اپنی تدبیر کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا کا ناطہ جوڑو، اور واقعی میرے مہربان رب نے مجھے اپنی رحمتوں میں سمیٹ لیا ہے۔
اور آج میں اپنے والدین کی محبتوں کی چھاؤں میں ہوں۔ اللہ کے فضل سے وہ خاندان جو کب کا بکھر چکا تھا، کسی کو صلہ رحمی کا بھی خیال نہیں آتا تھا۔ سب اپنی اپنی اَنا کے خول میں بند تھے۔ معاشرتی رواجوں میں جکڑے ہوئے۔ اللہ اور اس کے قرآن کے احکام کو بھولے ہوئے۔ آج سب ایک دوسرے پر جان چھڑکتے ہیں۔ ملنے کے بعد اندازہ ہوا کہ میری پھوپھیاں مجھ سے ملنا تو چاہتی تھیں لیکن کبھی ہمت ہی نہ ہوئی۔ وہ اپنی جگہ شرمندہ بھی تھیں کہ بھابھی کے گھر کو اجاڑنے میں شاید کچھ قصور ان کا بھی ہو۔ اس لیے وہ کبھی سامنے نہ آسکیں۔ سب اپنی اپنی غلطی کو تسلیم کرچکے ہیں کوئی کسی کو گزری ہوئی باتوں کا طعنہ نہیں دیتا۔ سب کھلے دل سے ایک دوسرے کو معاف بھی کرچکے ہیں۔
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146