اللہ سے فریاد (۱)

ڈاکٹر سمیر یونس ترجمہ: تنویر آفاقی

ایک خاتون نے ’’اللہ سے فریاد‘‘ کے عنوان سے میرے پاس ایک خط بھیجا ہے۔ یہ خط اور اس کی روشنی میں کچھ باتیں پیش کرنا، شاید قارئین کے لیے بھی مفید ہو، اس لیے اس خاتون کا نام حذف کرکے آپ کے مطالعے اور غوروفکر کے لیے پیش کررہا ہوں۔ خط کا مضمون اس طرح ہے:
دن بھر کے کام سے فارغ ہوکر شوہر گھرمیں داخل ہوا تو بیوی نے اس کابڑا پرتپاک استقبال کیا۔ شوہر کے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی وہ اس کے لیے لذیذ کھانا بنا چکی تھی۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ شوہر کے آنے سے پہلے ہی کچن کے جملہ کاموں سے فارغ ہوجائے گی۔ کھانے کو لذیذ بنانے اور اچھی طرح سجانے میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سبزیاں کاٹتے ہوئے اس کی انگلی کٹ گئی، پیاز کاٹتے ہوئے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں، لیکن وہ اپنے شوہر کی خوشی کے لیے ان سب مشکلات کو بھول گئی اور اپنے محبوب شوہر کے استقبال کے لیے خود کو سجانے اور سنوارنے میں لگ گئی۔ اسی دوران شوہرِ نام دار تشریف بھی لے آئے۔ اس نے خوشی و مسرت سے شوہر کا استقبال کیا، لیکن شوہر نے اس کی ان تیاریوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ وہ گھر میں داخل ہوا تو اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔ زبان سے بھی اس نے اپنی بیوی کی نہ تعریف کی اور نہ ہی کوئی کلمہ شکر زبان سے نکالا۔
بیوی نے شوہر کے اس روکھے رویے کو صبر کے ساتھ برداشت کرلیا، اور سیدھی کچن میں چلی گئی تاکہ اس کے لیے کھانا لگادے۔ اس نے شوہر کے جوتے اتارنے اور لباس تبدیل کرنے میں بھی اس کی مدد کی۔ اس کے بعد اسے محبت کے ساتھ دستر خوان پر بلایا۔ لیکن اس کے رویے میں اب بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ نہ چہرے پر مسکراہٹ، نہ زبان پر کوئی اچھی بات کہ جسے سن کر بیوی بھی خوش ہوجائے۔
بیوی نے دستر خوان پر رنگین موم بتیاں جلا رکھی تھیں اور کھا نے کے چاروں طرف خوش نما پھول رکھ دیے تھے جو اس کی محبت اور اس کی وفاداری کی قسمیں کھا رہے تھے، لیکن شوہر صاحب اب بھی اپنی بیوی کی جانب متوجہ نہیں ہوئے۔ اس نے تو پورے گھر کو ہی رومانیت اور خالص محبت سے معمور مناظر میں بدل دیا تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ شوہر عورت کے مزاج سے ہی ناواقف ہے، وہ موم بتیوں، پھولوں اور رومانیت کا مفہوم ہی نہیں جانتا ہے۔
شوہر اور بیوی دونوں دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔ شوہر کھانے میں پوری طرح منہمک ہے۔ اس کے ہاتھ دسترخوان پر ادھر ادھر حرکت کررہے ہیں، لیکن مکمل سکوت کے ساتھ!! اس نے یہ زحمت بھی نہیں کی کہ بیوی کی اس محنت اور لگن پر زبان سے ایک کلمہ شکر ہی ادا کردے یا اس کے بنائے ہوئے لذیذ کھانے کی تعریف میں ایک جملہ ہی زبان سے کہہ دے۔ بیوی جس کی ہر کوئی تعریف کرتا ہے، لیکن اس کی صلاحیتوں اور مہارتوں سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مستفید ہونے والا اس کا شوہر ہی اس کی تعریف نہیں کرتا!!
بیوی سوچنے لگی کہ کمی کہاں رہ گئی ہے کہ شوہر اس کی جانب متوجہ نہیں ہے؟! اسے خیال آیا کہ شاید اس نے کپڑے شوہر کی پسند کے نہیں پہنے ہیں، وہ ڈریسنگ روم میں گئی اور وہی لہنگا پہن کر آئی جو اس نے شادی کے روز پہنا تھا کہ شاید اس طرح شوہر کو وہ خوشگوار دن یاد آجائیں۔ اس نے شوہر سے پوچھا: ’’اس لہنگے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟کچھ یاد آتا ہے؟‘‘ شوہر نے جھنجھلاہٹ کے ساتھ جواب دیا: ’’ہاں، ہاں سب یاد ہے۔ ہم نے یہ شادی کے دو سال بعد خریدا تھا!‘‘ لیکن اس کا رنگ فیڈ ہوگیا ہے۔ اب یہ تمہارے لائق نہیں رہا ہے۔ تم اسے پچھلے سات سال سے پہنتی آرہی ہو۔ اب تو تمہاری عمر کافی ہوگئی ہے۔ اپنی عمر کے لحاظ سے کپڑے پہنا کرو۔
بیوی کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا گویا وہ سوچ رہی تھی کہ کاش اس وقت اس نے یہ لباس نہ پہنا ہوتا۔ میں نے تو شوہر کو متوجہ کرنے کے لیے پہنا تھا، لیکن کیا پتہ تھا کہ شوہر کو اسے پہن لینا اتنا برا لگے گا۔ اب مجھے کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہیے، جس سے میں شوہر کو اپنی جانب متوجہ کرسکوں، شاید اب کی بار میں اُن کی محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاؤں۔
بہت غوروفکر کے بعد وہ اپنے شوہر کے قریب گئی اور عشق و محبت میں ڈوب کر اس نے اس سے سرگوشی کرتے ہوئے کہا: ’’جان من! ان موم بتیوں اور پھولوں کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا یہ خوبصورت نہیں ہیں؟‘‘
شوہر نے جواب دیا: ’’مجھے نہیں معلوم! تم نے موم بتیاں جلا کر اندھیرے میں کیوں بٹھا رکھا ہے؟ جب کہ لائٹ بھی موجود ہے؟ یہ کیا فضول کے کام کررہی ہو تم؟ جو کچھ تم کررہی ہو، کیا اس سب سے ہم بڑے نہیں ہوگئے ہیں؟! یہ نوجوانوں اور نئے نویلے جوڑوں کے کام ہیں۔ ہم اب بڑے ہوچکے ہیں۔ کچھ تو عقل کے ناخن لو، حقیقت کی دنیا میں رہو!‘‘
لیکن بیوی بھی بلا کی صابر تھی۔ وہ اب بھی مایوس نہیں ہوئی۔ اس نے اپنے شوہر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پھر سے اپنی عقل کو دوڑانا شروع کردیا۔ اس نے طے کیا کہ اس بار کھانے کے متعلق اس سے سوال کرے گی۔ اس نے شوہر سے پوچھا: ’’آپ کو سلاد کیسی لگی؟‘‘
’’اس میں تم نے گاجر نہیں ڈالی۔‘‘ شوہر نے جواب دیا۔
’’اچھا سالن کیسا تھا؟‘‘
’’کچھ چیزیں اس میں پوری طرح بھن نہیں پائیں۔‘‘
’’مسالہ بھری سبزی کیسی تھی؟‘‘
’’کوئی اور سبزی بنانی چاہیے تھی۔‘‘
’’چاول ٹھیک تھے۔‘‘
’’تھوڑا نمک کم تھا۔‘‘
یہ خاتون کہتی ہے کہ چاروں طرف سے مجھے ناکامی کے احساس نے گھیر لیا۔ مجھے لگنے لگا کہ میں مایوسی اور بے یقینی کے دلدل میں دھنس رہی ہوں۔ اس موقع پر میں نے شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کی اس کے بعد شوہر سے رخصت لی اور اسے شب بخیر کہہ کر اپنے بستر پر آگئی۔ اور ایک تھکا دینے والے دن کے بعد اگلے ایسے ہی دن کا انتظار کرنے لگی۔ لیٹے لیٹے میں سوچنے لگی کہ شادی کے وقت وہ میری بہت تعریف کیا کرتے تھے بلکہ میں ہی انھیں کہتی تھی کہ میری اتنی زیادہ بڑھا چڑھا کر تعریف نہ کریں۔ لیکن اب میں اپنی تمام کوششوں کے بعد بھی ان سے تعریف کا لفظ سننے کے لیے ترستی رہتی ہوں۔ میں اسی انتظار میں رہتی ہوں کہ وہ میرے لباس کی، کھانے کی یا کسی اور بہانے سے میری کوئی تعریف ہی کردیں،لیکن میری یہ تمنا لاحاصل ہی رہتی ہے۔ اسی لیے میں اب صرف اللہ سے فریاد کرتی ہوں۔
(اس خط کا جواب آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146