شام کا وقت تھا۔ تانیہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھی چائے پی رہی تھی کہ ایک دم اسے خیال آیا آج اسلامیات کی مس نے صدقہ جاریہ کے بارے میں بتایاتھالیکن بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ چلو میں ماریہ باجی سے پوچھتی ہوں۔ ’’ماریہ باجی آج مس نے ہمیں صدقہ جاریہ کے بارے میں بتایا تھا، اس کا مطلب کیا ہے؟‘‘ ماریہ باجی نے کہا: ’’صدقہ جاریہ کا مطلب ہے کہ اگر آپ کا انتقال ہوجائے اور آپ کی کسی بھی چیز سے لوگ فائدہ اٹھائیں تو آپ کو ثواب ملے گا اور وہ آپ کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے گا۔‘‘
تانیہ نے پھر سوال کیا: ’’درخت ہمارے لیے صدقۂ جاریہ کیسے بنے گا؟‘‘ماریہ باجی کے بجائے امی نے کہا: ’’اگر تم پودا لگاؤ گی تو وہ درخت بن جائے گا، اور اس میں پھل نکل آئیںگے۔ لوگ وہ پھل توڑ کر کھائیں گے، اللہ کا شکر ادا کریں گے اور اس طرح آپ کو ثواب ملے گا۔‘‘ابو نے مزید وضاحت کی: ’’اگر کوئی سفر کرکے آئے اور بہت دھوپ بھی ہو تو وہ تمہارے لگائے ہوئے درخت کے نیچے آرام کرے گا اور تمہیں دعا دے گا۔‘‘تانیہ نے پھر سوال کیا: ’’مال ودولت ہمارے لیے صدقۂ جاریہ کیسے بنے گا؟‘‘امی نے بتایا: ’’اگر تم اپنے مال و دولت سے عوام کی بھلائی کے کام کروگی یعنی اگر تم اسپتال بنادوگی تو اس میں مریض آئیں گے اور شفا پائیں گے تو اس طرح تمہاری دولت تمہارے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے گی۔‘‘
اب تانیہ کی سمجھ میں تمام بات آگئی۔ ’’اب میں بھی کوئی ایسا کام کروں گی جو میرے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔‘‘ تانیہ نے کہا اور امی نے انشاء اللہ کہہ کر تانیہ کو شاباشی دی۔





