مجھے آپا شمیم کا افسردہ چہرہ آج بھی اکثر یاد آتا ہے۔ یاس اور پژمردگی ان کے چہرے کا مستقل جزبن گئی تھی۔ وہ ہر وقت کچھ سوچتی رہتی تھیں۔ ان کے دو بچے تھے اور وہ ان کی دیکھ بھال میں پوری دلچسپی لینے کی کوشش کرتی تھیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ کسی نہ معلوم بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں اور ان کے قدم بوجھل ہو رہے ہیں۔ مجھے ان کی اس حالت پر بے حد تشویش ہوتی تھی۔ وہ میری بچپن کی سہیلی تھیں۔ ہم ایک ہی محلے میں رہتے تھے اور میٹرک ہم نے ایک ہی اسکول سے کیا تھا۔
شمیم جسے ہم ‘شمو’ کہا کرتے تھے، نہایت ہی ہنس مکھ اور ملنسار لڑکی تھی۔ وہ جہاں بیٹھتی لطیفوں اور دلچسپ باتوں سے محفل کو کشتِ زعفران بنا دیتی۔ اس کی ہر حرکت سے زندہ دلی ٹپکتی۔ ہمیں یوں لگتا کہ وہ مسرتوں پر حکمرانی کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہے۔
شمو کی شادی میری شادی سے دو سال پہلے ہو گئی تھی۔ پھر وہ دوسرے شہر چلی گئی۔ کبھی کبھار آتی تو گھنٹوں باتیں کرتی۔ اب میں نے انہیں آپا شمیم کہنا شروع کر دیا۔ پھر ان کا آنا جانا تقریباً بند ہو گیا۔ کبھی کبھار خط لکھ دیتیں۔ ان کے خط پڑھ کر مجھے کچھ یوں محسوس ہوتا جیسے آپا شمیم بجھتی جا رہی ہیں۔ اس عرصے میں میری بھی شادی ہو گئی اور مجھے دوسرے شہر جانا پڑا۔ چار پانچ سال کے بعد ہمارا تبادلہ ہو گیا۔
میں نے شہر پہنچتے ہی سب سے پہلے آپا شمیم کا پتا لگایا۔ وہ قریب ہی رہتی تھیں۔ میں نے آپا شمیم کے قریب ہونے کی کوشش کی، لیکن پھر انہیں بالکل بدلا ہوا پایا۔ انہیں کسی چیز سے دلچسپی نہیں تھی۔ کبھی کبھار وہ مسکرا بھی دیتیں، لیکن اس مسکراہٹ کے پیچھے دردکی ہلکی سی چیخ ہوتی۔ وہ اندر ہی اندر گھلے جا رہی تھیں، حالانکہ کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ خوبصورت بنگلہ تھا، نوکر چاکر تھے، دولت کی ریل پیل تھی اور ان کے خاوند کے پاس ایک لمبی کار بھی تھی۔
آپا شمیم کی اس حالت نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ میں ان سے پوچھتی “آپا! مجھے بتاؤ تو سہی تمہیں کیا تکلیف ہے، شاید میں تمہارے کسی کام آ سکوں۔” لیکن وہ ہر دفعہ ٹال جاتیں۔
ایک بار میں نے شدتِ احساس سے بے بس ہو کر آپا کو گھیر لیا۔ میں نے کہا: جب تک دل کی بات نہ بتاؤ گی، میں یہاں سے نہیں جاؤں گی۔ انھوں نے بہتیرا ٹالا۔ لیکن میں برابر اصرار کرتی رہی۔ ان کی موٹی موٹی آنکھیں جو اب اندر کو دھنس گئی تھیں، آنسو ابل پڑے۔ کچھ دیر یہی کیفیت رہی۔ میں اپنے آپ کو برا بھلا کہنے لگی کہ میں نے اصرار کر کے آپا کے جذبات مجروح کر دیے۔ پھر میں نے آپا شمیم کو بچپن کے تعلقات کا واسطہ دیا اور کہا کہ مجھے اپنا رازداں سمجھو اور مجھ پر اعتماد کرو۔ کیا تمہیں وہ دن یاد نہیں جب ہم اکٹھے پڑھتے تھے اور ایک دوسرے سے پہروں باتیں کیا کرتے تھے۔ تم نے مجھے ہمیشہ اعتماد میں لیا تھا، میں آج بھی وہی منظر ہوں۔
جب آپا شمیم کا دل کچھ ہلکا ہوا تو انھوں نے قریب آتے ہوئے کہا: “منظر! تمہیں کیا بتاؤں کہ میں کس مصیبت میں ہوں، یہ گھر میرے لیے جہنم بنا ہوا ہے، ایک لمحے کے لیے بھی سکون نہیں۔”
“یہ گھر تمہارے لیے جہنم ہے؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔
“ہاں، جہنم ہے۔ میں یوں محسوس کرتی ہوں کہ یہ میرا گھر نہیں۔”
“آخر کیوں؟ بظاہر تو تمہیں تمام آسائشیں میسر ہیں۔”
“ٹھیک کہتی ہو منظر، مگر تمہیں کیا معلوم کہ یہ آسائشیں مجھے سانپ کی طرح ڈستی ہیں۔ میں دس سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود حلیم صاحب کو اپنا نہ بنا سکی۔ وہ مجھ میں بہت کم دلچسپی لیتے ہیں۔”
“لیکن وہ تو آپ کو اپنے ساتھ سنیما لے جاتے ہیں۔ میں نے آپ دونوں کو اکٹھے سیر کے لیے بھی جاتے دیکھا ہے۔”
“یہ سب تفریحی مشاغل مصنوعی ہیں۔ اگر دلوں نے ایک دوسرے کو قبول نہ کیا ہو، تو اوپری باتوں سے کیا ہوتا ہے۔”
“آپا! تمہیں یہ احساس کیوں ہے کہ بھائی حلیم تمہیں نہیں چاہتے؟”
“مجھے انھوں نے سب کچھ دے دیا ہے، وہ مجھ سے ہمدردی بھی کرتے ہیں، لیکن وہ مجھ سے محبت نہیں کرتے۔ کبھی اپنے دل کی بات مجھے نہیں بتاتے۔ یوں گھر میں سب کچھ آتا ہے، مگر وہ میرے لیے اپنے ہاتھ سے کچھ نہیں لاتے، انہیں اپنا کاروبار مجھ سے زیادہ عزیز ہے۔ وقت کا بڑا حصہ باہر گزارتے ہیں۔ جب آئیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی صاحب ہوٹل میں ٹھہرنے آئے ہیں۔ میرے جوان شوق دم توڑ چکے ہیں۔ کاش! میری شادی کسی ایسے شخص سے ہوئی ہوتی جو جھونپڑی میں رہتا، لیکن مجھ سے سچی محبت کرتا۔”
آپا شمیم جذبات کی رو میں بہتی چلی گئیں اور ساتھ میں بھی بہہ رہی تھی۔ جب جذبات کا سحر ٹوٹا تو میں نے آپا کی حالت پر سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا۔ وہ بت بنی بیٹھی تھیں۔ میں نے ان سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ میں سمجھتی تھی کہ اس وقت نصیحت آمیز باتیں کرنا بے سود ہے۔ کچھ دیر بیٹھ کر چلی آئی۔
میں آپا شمیم کے بارے میں تمام رات سوچتی رہی۔ پانچ چھ سال کی طویل مدت اور بچوں کی محبت بھی میاں بیوی کو ایک دوسرے کے قریب نہ لا سکی۔ میں اس کا کوئی حل تلاش کرنا چاہتی تھی، مگر کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آپا شمیم کو سمجھاؤں کہ ان کے اس احساس سے کتنے خطرناک نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔ میں اب اکثر ادھر چلی جاتی تاکہ آپا کی دلجوئی کر سکوں۔ میں جب بھی جاتی، وہ مجھ سے بھائی حلیم کے رویے کے متعلق شکایتیں اور کہتیں کہ زندگی سے جی بھر گیا ہے۔ میں نے مختلف طریقوں سے آپا میں زندہ دلی اور خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ وہ وقتی طور پر کچھ سنبھل بھی جاتیں لیکن جلد ہی شکستگی کے جذبات سے بھر جاتیں۔ ایک روز میں آپا کی طرف گئی، تو انھیں سخت برہمی کے عالم میں دیکھا۔ مجھے دیکھتے ہی شمیم آپا مجھ پر برس پڑیں:
“تم اپنے بھائی کی بڑی حمایت کیا کرتی ہو، تمہیں ان کے کرتوتوں کا بھی علم ہے؟”
“کیا ہوا؟” میں نے پریشانی کے عالم میں پوچھا۔
“منظر! یہ مرد بڑے دھوکے باز ہوتے ہیں۔ ان پر کبھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ آج میں نے تمہارے بھائی کی جیب میں ایک لڑکی کا خط دیکھا۔”
“تو پھر کیا ہوا؟” میں نے بڑی سادگی سے کہا: “بھائی صاحب کا کاروبار ہی اس نوعیت کا ہے کہ انہیں خواتین سے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔”
“مجھے بہلانے کی کوشش نہ کرو۔ میں ان باتوں کو خوب سمجھتی ہوں۔ جس بے تکلفی سے وہ خط لکھا گیا ہے، وہ کاروباری نہیں ہو سکتا۔ منظر تم انہیں نہیں جانتیں۔”
میں نے آپا کے احساس کی شدت کم کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن شعلہ بڑھتا ہی گیا۔ میں نے وہاں سے آ کر اپنے شوہر سے اس سنگین صورتِ حال کا ذکر کیا۔ حلیم صاحب ان کے بھی خاصے اچھے دوست تھے۔ انھوں نے تمام حالات غور سے سنے اور پھر گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ ان کے چہرے سے پریشانی کے آثار تھے۔ کچھ دیر کے بعد کہنے لگے کہ اگر چہ معاملہ بہت الجھ گیا ہے، تاہم میں سلجھانے کی کوشش کروں گا۔ میں نے ان میں تیزی پیدا کرنے کی غرض سے کہا:
“میں دیکھتی ہوں تمہاری نفسیات اب کس کام آتی ہے۔ روز میرے کان کھاتے ہو کہ نفسیات کی مدد سے بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔”
یہ سن کر وہ صرف مسکرا دیئے۔ تین چار دن بعد مجھے معلوم ہوا کہ آپا شمیم لڑ جھگڑ کر بچوں سمیت میکے چلی گئی ہیں۔ مجھے اس بات سے اور بھی تشویش لاحق ہوئی۔ میں نے انہیں خط لکھا اور شکایت کی کہ وہ مجھے بتائے بغیر چلی آئی ہیں۔ ایک ہفتے بعد ان کا جواب آیا کہ منظر مجھے بھول جاؤ، میں نے اب زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دنیا میرے لیے ویران ہے۔ میں اب شاید تمہیں کبھی نہ مل سکوں۔
یہ سطریں پڑھ کر میں پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ مجھے ایک خاندان کے اس طرح اجڑ جانے پر سخت صدمہ تھا۔ مجھے آپا شمیم کے مایوس رویے نے اور بھی زیادہ خوفزدہ کر دیا۔ میں نے اسی کیفیت میں انہیں خط لکھا۔ مجھے اب یاد نہیں کہ میں نے کیا لکھا تھا، تاہم یہ بات ذہن میں محفوظ ہے کہ خط لکھنے کے دوران میری آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرتے رہے۔ ایک ماہ تک آپا کی طرف سے میرے خط کا کوئی جواب نہ آیا۔ اس بات نے میرے اضطراب میں بے حد اضافہ کر دیا تھا۔
دوسری طرف میرے شوہر نے حلیم صاحب سے رسم وراہ کچھ زیادہ بڑھالی تھی۔ ایک رات ان کے ہاں گئے اور باتوں باتوں میں حلیم صاحب سے پوچھا:
“آپ کچھ پڑھتے بھی ہیں؟”
“بھائی وقار! کاروبار میں اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ کچھ پڑھ سکوں۔”
“لیکن حلیم صاحب! کچھ رسائل ایسے ہیں جو آپ کا کاروبار بڑھانے اور اس سے زیادہ نفع کمانے میں رہنمائی کرتے ہیں۔”
“اچھا! بھائی مجھے تو کچھ پتا نہیں، آپ مجھے ایسے رسالے لا دیا کریں، میں انہیں رات کے وقت پڑھنے کی کوشش کیا کروں گا۔ آج کل تمہاری بھابھی بھی یہاں نہیں، کچھ وقت نکل ہی آئے گا۔”
وقار صاحب نے پہلے ایسے رسائل پڑھنے کے لیے دیئے جن میں زیادہ تر کاروباری اصول بیان کیے گئے تھے۔ جب حلیم صاحب کو کچھ پڑھنے کی عادت پڑ گئی تو پھر انہیں ایسے رسائل بھی دینے لگے جن میں معاشرتی مسائل ہلکے پھلکے انداز میں بیان کیے ہوئے تھے۔
ایک شام یہ دونوں دوست بیٹھے ہوئے تھے کہ حلیم صاحب نے کہا: “وقار صاحب! آپ کے دیئے ہوئے رسالے بہت اچھے ہیں، میں سونے سے پہلے ان میں سے کچھ نہ کچھ ضرور پڑھتا ہوں۔ کیا نئے رسالے ابھی تک نہیں آئے؟”
“میں کل لیتا آؤں گا۔”
اگلے روز وقار صاحب انہیں کچھ نئے رسالے اور دے آئے جن میں مختلف اخلاقی اور نفسیاتی الجھنوں کا جائزہ لیا گیا تھا اور ازدواجی زندگی کے مختلف گوشوں میں رہنمائی فراہم کی گئی تھی۔ اسی رات انھوں نے تمام رسائل پر طائرانہ نظر ڈالی۔ ایک رسالے میں ایک مضمون کا عنوان تھا “کیا آپ ایک اچھے شوہر ہیں؟” حلیم صاحب غیر ارادی طور پر مضمون پڑھنے لگے۔ مضمون میں مرد سے دس سوالات پوچھے گئے تھے جن کے جوابات دے کر ایک مرد از خود محاسبہ کر سکتا تھا کہ وہ کس حد تک ایک اچھا اور کامیاب شوہر ہے۔ پہلا سوال تھا:
“کیا آپ خانگی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے میں ذاتی طور پر دلچسپی لیتے ہیں؟”
حلیم صاحب نے دل ہی دل میں یہ بات محسوس کی کہ نہ تو انھیں خانگی ذمہ داریوں کا پورا پورا شعور ہے اور نہ ہی خانگی معاملات میں انھوں نے کبھی ذاتی دلچسپی لی۔ حلیم صاحب نے جواب کے خانے میں ‘نہیں’ پر کیا۔
دوسرا سوال تھا: “کیا آپ ہر ماہ اپنی تنخواہ اپنی بیوی کے ہاتھ میں دیتے ہیں؟”
حلیم صاحب نے اس خانے میں بھی ‘نہیں’ لکھا۔
“کیا آپ اکثر معاملات میں اپنی بیوی کو اعتماد میں لیتے ہیں؟”
اس سوال نے حلیم صاحب کو چونکا دیا۔ انھوں نے اپنے آپ سے کہا: “میں تو آج تک یہ سمجھتا رہا تھا کہ عورت کو کبھی راز دار نہیں بنانا چاہیے، کیونکہ اس میں ان معاملات کی تہ تک پہنچنے کی بہت کم صلاحیت ہوتی ہے۔ اور پھر یہ کہ میں اپنی بیوی سے مشورہ لے بھی کیا سکتا ہوں؟”
اس تجزیے کے بعد انھوں نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا۔
چوتھا سوال تھا: “کیا آپ اپنی بیوی کے لیے تحائف لاتے رہتے ہیں؟”
“کبھی نہیں لایا، مجھے اس کی ضرورت اور اہمیت کا کبھی احساس ہی نہیں ہوا”، حلیم صاحب دل ہی دل میں کہہ رہے تھے۔
پانچواں سوال تھا: “کیا آپ اپنی بیوی کے کپڑوں اور اس کے اچھے کاموں کی تعریف کرتے رہتے ہیں؟”
“جی نہیں، میں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ بلکہ میں نے تو اس بات کا نوٹس بھی بہت کم ہی لیا ہے کہ وہ کون سے کپڑے پہنے ہوئے ہے۔”
چھٹا سوال تھا: “کیا آپ اپنے بال بچوں کو اتنا وقت دیتے ہیں کہ انہیں یہ احساس ہو کہ آپ ان میں دلچسپی رکھتے ہیں؟”
“کاروباری مصروفیات کی بنا پر تو اکثر گھر دیر سے پہنچتا ہوں۔ بسا اوقات تو ایسا بھی ہوا ہے کہ میں گھر اس وقت پہنچتا جب بچے سو چکے ہوتے۔ پھر ان کے جاگنے سے پہلے صبح سویرے گھر سے کاروبار کے لیے نکل کھڑا ہوتا۔”
ساتواں سوال تھا: “کیا آپ اپنی بیوی کے رشتہ داروں میں دلچسپی لیتے ہیں؟”
“کبھی نہیں لی۔ جس نے کبھی اپنے اندر دلچسپی نہیں لی، وہ دوسروں میں کیا دلچسپی لے سکتا ہے۔”
آٹھواں سوال تھا: “کیا آپ کو اپنی بیوی کی غلطی پر غصہ آجاتا ہے۔”
“نہیں، مجھے غصہ بہت کم آتا ہے۔ اور اگر آتا بھی ہے تو اس کا بہت ہی کم اظہار کرتا ہوں۔”
نواں سوال تھا: “کیا آپ اپنی خانگی زندگی کو اور زیادہ پر مسرت اور کیف آگیں بنانے کی خواہش رکھتے اور اس کے لیے کوشش کرتے ہیں؟”
“خواہش تو رکھتا ہوں، لیکن کوشش کبھی نہیں کی۔”
آخری سوال تھا: “کیا آپ نے اپنے رویے سے اپنی بیوی کو یہ تاثر دیا ہے کہ آپ اس کے علاوہ کسی اور عورت سے بھی محبت کرتے ہیں؟”
“میں کسی اور سے محبت نہیں کرتا۔”
دس سوالات میں سے تقریباً تین سوالات کے جوابات ایک اچھے شوہر کے حق میں جاتے تھے۔ حلیم صاحب نے سوالات بار بار پڑھے اور بار بار اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کیا۔ انہیں احساس ہوا کہ خانگی زندگی کی بے کیفی میں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی جلد از جلد تلافی کرنے کے لیے بے چین ہو گئے۔
ادھر آپا شمیم کو میکے گئے ہوئے تین ماہ ہو چکے تھے۔ اس دوران میں وہ شدید بیمار پڑیں۔ بیماری نے ان کے جذبات میں خاصا اعتدال پیدا کر دیا۔ ان کے ذہن میں اپنے خاوند کی اچھائیاں اور اپنی کمزوریاں ابھرنے لگیں۔ اتنے میں حلیم صاحب کا خط پہنچا جس میں انھوں نے اپنی تمام کوتاہیوں کا بھر پور اعتراف کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اپنی خانگی زندگی خوشگوار بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اگلے ہفتے آپا شمیم شہر پہنچ گئیں۔ اس کے بعد میاں بیوی کے طرزِ عمل میں ایک عظیم انقلاب آ گیا۔
مجھے ان دونوں میں اس غیر متوقع انقلاب سے بے پناہ خوشی ہوئی۔ مجھے یہ یقین ہو گیا کہ اگر تدبر، فراخ دلی اور ایثار سے کام لیا جائے، تو ٹوٹے ہوئے دل مل سکتے ہیں اور ویرانوں میں بہار آ سکتی ہے۔
اردو ڈائجسٹ لاہور، مرسلہ: ڈاکٹر اقبال احمد ریاض




