تازہ شمارہ

  • nov 21 title

نئی تحریریں

حاملہ خواتین اور کووڈ ویکسین

کورونا وائرس سے کون واقف نہیں۔ اس انتہائی ننھے سےوائرس سے پیدا ہونے والی بیماری کو کو وڈ- 19 کا نام دیا گیا ہے۔ چین کے ایک شہر ووھان سے شروع ہوکر پورے کرہ ارض اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کروڑوں لوگ اس بیماری کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے لاکھوں لوگ اپنی جان بھی گنوا بیٹھے ۔ جو لوگ اس بیماری لگنے کے بعد بچ گئے ہیں ان میں سے بھی ایک اچھی خاصی تعداد کو اس کے نتیجے میں طویل صحت کی خرابی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا تو یہ کہ ہم اس بیماری سے بچنے کی بھر پور کوشش کریں اور جتنی احتیاطی تدابیر کر سکتے ہیں وہ کریں۔ یوں تو اپنی صحت کا خیال رکھنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے لیکن حاملہ خواتین کے لیے اور بھی ضروری ہے کیوں کہ نہ صرف حاملہ خاتون کو…

جواب

ضیاء صاحب ،علاقہ کے معروف صنعتکار تھے، سو بیٹی کے جہیز میں اگر تاج محل دے سکتے تو وہ بھی دیتے۔اگرچہ شاہد اور اس کے والدین نے جہیز لینے سے صاف انکار کیا تھا بلکہ منت سماجت تک کی مگر ضیاء صاحب کے لیے ناک بڑی چیز تھی۔ بیٹی کو یونہی رخصت کر دیتے تو لوگ کیا کہتے؛ اس لیے خوب جہیز دیا۔ شاہد کو اگر پہلے معلوم ہوجاتا تو اس رشتہ کے لیے وہ کبھی راضی نہ ہو تا۔جہیز لینے والے دوستوں کو اس نے کئی بار لمبے لمبے لکچر دیے تھے۔ لہٰذا نکاح کے دو ہفتے پہلے جب ضیاء صاحب نے شاہد سے پوچھا کہ ’ڈاکٹر صاحب، کار کس برانڈ کی لیں؟‘ تو وہ غصہ سے بھر گیا۔ غصہ ہمیشہ ناک پر رہتا تھا اس کی، اس لیے برملا اظہار کردیا کرتا تھا۔ اب اس کے اظہار کی صورتیں بدل گئی ہیں۔ زندگی بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔…

شش و پنج میں عید

عید کا چاند نظر آنے کی خبر جیسے ہی شہر میں پہنچی۔ شہر کے سارے مسلمان دو جماعتوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک خبر پر یقین کرنے والے، دوسرے خبر کی خبر لینے والے۔ ہوا یہ کہ دو جماعتوں کے ذی حیثیت لوگ اپنے اپنے مفتی صاحبان کے پاس پہنچے۔ خبر پر یقین کرنے والی جماعت کے مفتی صاحب نے فرمایا: ’’آس پاس کے بہت سارے علاقوں میں چاند نظر آنے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس لیے آج تراویح نہیں ہوگی۔ کل روزہ رکھنا حرام ہے—! کل عید ہوگی — عید!‘‘ مفتی صاحب کا فیصلہ سنتے ہی روزہ دار تو خوش ہوئے ہی، ان لوگوں نے بھی مسرت کا اظہار فرمایا جنھوںنے ایک بھی روزہ نہ رکھا تھا اور نہ کبھی تروایح پڑھی تھی۔ خبر کی خبر لینے والی جماعت کے باحیثیت افراد اپنے مفتی صاحب کے پاس گئے۔ مفتی صاحب بھرے بیٹھے تھے کسی نے ان تک یہ خبر پہنچادی…

احساس اور کردار

[مہر رحمن صاحبہ کی یہ تحریر ہمیں کووڈ سے پہلے ملی تھی۔ افسوس ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ اپنے رب سے جاملیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں اپنے رحم و کرم کی چادر سے ڈھانپ لے۔ آمین!] تین دن بعد دھڑکتے دل سے آفس میں داخل ہوئی۔ خوفزدہ سی پریشان سی اور سہمی ہوئی۔ خیالات کے تانوں بانوں میں الجھی ہال سے گزرتے ہوئے کنکھیوں سے اسٹاف کا جائزہ لیتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی۔ ’’تجھے دیکھ کر ہنسیں گے سب۔ تجھ سے بات کرنا بھی کوئی پسند نہ کرے گا۔تیرے ٹیبل پر بہانے سے بھی کوئی نہیں آئے گا۔ کیونکہ — کیونکہ آفیسز میں کلرکس، ٹائپسٹ اور سکریٹریز حسین ترین ہوتی ہیں۔‘‘ دل کی دھڑکن ایسے ہی جملے دہرائے جارہی تھی۔ ’’صاحب کا کمرہ؟‘‘ اس نے بے خیالی میں چپراسی سے پوچھا جو اسے دیکھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔ دل نے چٹکی لی یہ بھی مجھے گھور رہا ہے۔…