تازہ شمارہ

  • nov 21 title

نئی تحریریں

نیکیاں ضائع ہونے سے بچائیے!

ہماری زندگی میں ایسے بہت سے کاموں کی مثالیں ہیں کہ جنھیں کرنے یا انجام دینے والے کو گمان ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی رضا اور آخرت کے اجر کے لیے کررہا ہے، لیکن درحقیقت اس کی نیت کچھ اور ہوتی ہے۔ انفاق ضائع ہوجاتا ہے،اگر اس کے بعد احسان جتایا جائے یا تکلیف دی جائے یا دکھاوے کے لیے کیا جائے۔اور اس کے لیے چٹان پر سے مٹی ہٹنے کی مثال دی گئی ہے۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کر کے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا۔ (البقرہ:۲۶۴) اعمال دنیا ہی کی نیت سے کیے جائیں تو بڑھاپے میں باغ یا آمدنی کا واحد ذریعہ ختم ہوجانے کی مثال دی گئی ہے۔(البقرہ:۲۶۶ ) حدیثِ نبویؐ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہید، عالم اور سخی کو بھی جہنم میں ڈال دیا گیا کیوںکہ یہ دکھاوے کے لیے عمل کرتے تھے۔ اس طرح…

عورت کی آزادی کا اسلامی تصور

عورت کی آزادی کا اسلامی تصور

عورت کو معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں بنیاد کے پتھر کا درجہ حاصل ہے۔ اس کا اساسی منصب قدرتی طور پر ایک تخلیق کار کا ہے،اس طرح کہ اس کا وجود انسانی تخلیق کا سرچشمہ قرار پاتاہے۔یہی سبب ہے کہ وہ معاشرے پر اپنے پورے احساسات، جذبات اور خیالات کو برتنے کا ہنر جانتی ہے۔عورت کی یہ بنیادی حیثیت ازلی ہے اور تا ابد قائم رہے گا تاہم عورت کے مقام اور مرتبے کو معاشرے نے تقریباً ایک زمانے تک حاشیے پر ڈال رکھاتھا۔اس سلسلے میں تو ایسے آج بھی یہ دعوا نہیں کیا جاسکتا کہ اسے کامل آزادی مل گئی ہے تاہم صورت حال پہلے سے غنیمت ہے۔تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ ماقبلِ اسلام یعنی دورِ جہالت میں اس کی سماجی حیثیت بالکل صفر تھی۔یہ مردوں کے جبر و استبداد کا شکار تھی لیکن وقت نے کروٹ لی اور ظہورِ اسلام کے بعد باوقار طریقے سے عورتوں کے…

خوشیوں کے جگنو تھام لیجیے!

لوگ اپنی زندگی میں آرام و سکون کے لیے مسلسل محنت اور دن رات کی مشقتیں اٹھا کر اسائشیں حاصل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ زندگی کو پرسکون بنانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ مکان کو گھر بنانے کے لیے جوانی جیسی نعمت اپنے پسینوں سے بہا کر سر پر چاندی سجا لیتے ہیں لیکن خوشی سے پھر بھی کوسوں دور رہتے ہیں۔ خوشی اصل میں ہے کیا؟ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی؟ شاید نہیں، ہم نے خود کو روز مرہ کے کاموں میں الجھا کر اس نعمت سے منہ موڑ لیا۔ ہمارے پاس شاید وقت ہی نہیں جو اسے محسوس کر سکیں۔ خوشی ایک ایسا سچا اور پاکیزہ احساس ہے جو لبوں سے ہوتا ہوا دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے اور رگ و پے میں اطمینان اور سکون بھر دیتا ہے۔ خوش رہنا اتنا مشکل نہیں جتنا لگتا ہے۔ اگر ہم محض…

یہ راستہ کوئی اور ہے؟

یہ راستہ کوئی اور ہے؟

کبھی غور کیا ہے دنیا ہمیں برا بھلا کیوں کہتی ہے؟ خاندان کے لوگ ہم پر باتیں کیوں بناتے ہیں؟؟ محلے والے ہمیں اچھا کیوں نہیں سمجھتے؟ اور تو اور گھر والوں کے ہاتھوں بھی تنقید کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ حالانکہ ہم اپنے خود گواہ ہیں کہ ہم کتنے اچھے ہیں۔ ہمارا دل جانتا ہے کہ ہماری نیت صاف ہے۔ ہم بے شک تھوڑا تلخ بول جاتے ہیں لیکن ہمارا مطلب ہرگز وہ نہیں ہوتا جو لوگ سمجھ لیتے ہیں۔ ایسا ہی ہے ناں؟ تو جناب اگر ہم واقعی اپنے بارے میں یہی جانتے ہیں تو پھر لوگ ہمیں صحیح برا کہتے ہیں۔ ہم پر صحیح باتیں بناتے ہیں۔ اور یقین کریں کہ ہم پر بالکل ٹھیک تنقید ہوتی ہے کیونکہ اگر ہم ’’ اپنی نظروں میں اتنے ہی اچھے ہیں تو ظاہر ہے سامنے والا ہمیں معاشرے کا سب سے برا شخص نظر آئے گا۔ کھیل صرف دماغ…