جہاں انصاف ہوتا ہے وہاں امن، بھائی چارہ اور محبت ہوتی ہے۔ جب ہر حقدار کو اس کا حق ملتا ہے تو معاشرے میں استحکام اور توازن آتا ہے۔ اس کے برعکس، جب سماج سے انصاف ختم ہونے لگے، غریب اور کمزور طاقت ور کے رحم و کرم پر چھوڑ دئے جائیں تو معاشرے سے سکون و چین غائب ہونے لگتا ہے اور معاشرہ بکھر جاتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں اس بات کے لیے جد و جہد کی کہ ہر کمزور انسان کو انصاف اور اس کا جائز حق ملے۔ آپ نے اس بات کا عملی نمونہ پیش کیا کہ انصاف صرف طاقتور کے لیے نہیں بلکہ غریب اور کمزور کے لیے بھی برابر ہے۔
پیغام نبوت اور انصاف
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت اسلامیہ کے پیغمبر اور اس کے داعی بن کر آئے۔ قرآن کریم میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ رسولوں کے بھیجے جانے اور کتاب نازل کرنے کا مقصد انصاف اور عدل کا قیام ہے۔
اللہ تعالیٰ سورہ حدید میں ارشاد فرماتا ہے:
“ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔”
یہ آیت بتاتی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کا سب سے بڑا مشن عدل و انصاف اور انسانی مساوات کو قائم کرنا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان کا کوئی طاقت ور انسان جرم کرتا تو وہ اپنے اثر و رسوخ کے سبب اپنے جرم کی سزا سے بچ جاتا اور جب کوئی کمزور ایسا کرتا تو اسے سزا دی جاتی۔
موجودہ دور میں اگر ہم دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے عالمی سطح پر طاقتور اقوام کمزوروں پر ظلم کرنے میں مصروف ہیں اور کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ یہی حال ملکوں کی سیاست کا ہے کہ انصاف اور عدل کمزوروں کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ دنیا کی نام نہاد مہذب، ترقی یافتہ اور طاقتور اقوام کا حال یہ ہے کہ وہاں انصاف کہیں رنگ و نسل کی بنیاد پر ملتا یا نہیں ملتا ہے تو کہیں طاقت اور دولت کی بنیاد پر، کہیں مذہب کی بنیاد پر لوگ پاتے یا محروم کر دئے جاتے ہیں تو کہیں جغرافیائی حدود کام کرتی نظر آتی ہیں اور حقیقت میں یہ لاکھ دعووں کے باوجود انسانوں کی انصاف سے محرومی ہی ہے۔
نبی کریم کی زندگی اور آپ کی تعلیمات پورے عالم اور دنیا کے تمام سماجوں کے لیے نمونہ ہیں کہ آپ نے سماج میں عدل و انصاف کے قیام کا وہ نمونہ پیش کیا جس کی مثال آپ کے علاوہ دنیا نے کہیں نہیں دیکھی۔ نمونہ دنیا کی سپریم کورٹس کے لیے بھی ہے، جہاں بڑے بڑے قومی سطح کے مسائل بھی آتے ہیں اور عام عدالتی نظام کے لیے بھی جہاں عوام الناس عدل و انصاف کے لیے رجوع ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ نمونہ گھر اور خاندان کے لیے بھی ہے جہاں انسان اپنے بیوی بچوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
انصاف کرنے والوں کا بلند مقام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے دن انصاف کرنے والے لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے اور ان کا درجہ بہت بلند ہو گا۔
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں انصاف کرتے ہیں، اپنے گھر والوں اور بیوی بچوں کے ساتھ عدل سے پیش آتے ہیں، اور جنہیں کوئی ذمہ داری سونپی جاتی ہے تو وہ اس میں بھی دیانت داری اور عدل کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ بھی برابری اور انصاف کا برتاؤ کرتے ہیں۔
اولاد کے درمیان برابری
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میرے والد نے مجھے کچھ تحفہ دینا چاہا۔ میری والدہ نے کہا: ”اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیے“۔ جب میرے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس تحفے کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو برابر دیا ہے؟“
انہوں نے عرض کیا: ”نہیں“
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، کیونکہ میں نا انصافی پر گواہی نہیں دیتا۔“
یہ حدیث ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ اکثر لوگ اپنے بچوں کے ساتھ تفریق کر دیتے ہیں، کسی کو زیادہ اور کسی کو کم دیتے ہیں۔ خاص طور پر بیٹوں اور بیٹیوں کے معاملے میں اکثر لوگ بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں اور بیٹیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن اسلام نے بیٹے اور بیٹی دونوں کو برابری کا حق دیا ہے۔ بیٹا ہو یا بیٹی، دونوں اللہ تعالیٰ کی نعمت ہیں۔ حقوق، محبت اور تحفوں میں برابری کرنا ہی اصل انصاف ہے۔ اگر اولاد کے ساتھ برابری نہ کی جائے تو گھر کے اندر نفرت اور تفریق پیدا ہوتی ہے، جبکہ برابری کرنے سے محبت، اعتماد اور امن پیدا ہوتا ہے۔
انصاف کی بہترین مثال
ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا ہوا۔ جب یہ معاملہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاف کے مطابق یہودی کے حق میں فیصلہ فرمایا، حالانکہ دوسرا فریق مسلمان تھا۔
یہ اس بات کی سب سے بڑی مثال ہے کہ اسلام کا انصاف مذہب، قوم یا رشتے کو نہیں دیکھتا بلکہ حق اور سچائی کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔
دعائیں اور انصاف کی اہمیت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین لوگوں کی دعا کو اللہ تعالیٰ کبھی رد نہیں کرتا:
- انصاف کرنے والے حاکم کی دعا
- روزہ دار کی دعا
- مظلوم کی دعا
اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ انصاف اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت قیمتی ہے، روزہ بندے کی دعاؤں کو قبول کرواتا ہے اور ظلم سے بچنا بے حد ضروری ہے، کیونکہ مظلوم کی دعا بھی خالی نہیں جاتی۔
انصاف ہی اصل طاقت ہے
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتی ہے کہ انصاف، برابری، بھائی چارہ، دیانت داری اور انسانیت ہی انسانی سماج کی اصل طاقت ہے۔ آج کے چیلنجز کا حل نہ کسی طاقتور ہتھیار میں ہے اور نہ ہی دولت میں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں ہے۔ اگر دنیا کو انصاف اور امن چاہیے تو اسے قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنانا ہوگا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرت اور اسوہ حسنہ سے دنیا کے سامنے، زندگی کے ہر شعبہ میں انصاف اور عدل کی ایک روشن مثال پیش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی انسانیت کے لیے ایک روشن راستہ ہے، جس میں عدل، برابری اور امن کی تعلیم ملتی ہے۔
ضروری ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے ان پہلوؤں کو عام کریں، ان کا صحیح تعارف کرائیں اور خود بھی جہاں جہاں ہمیں اختیار ملے، وہاں ہمیشہ انصاف اور عدل سے کام لیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔





