مالک

بینا رانی

وہ کھلونوں کا شاپر لٹکائے تیز تیز قدم اٹھاتا گھر کی جانب چلا جارہا تھا۔ خوشی اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ ایک نظر اپنے دائیں ہاتھ میں لٹکے کالے رنگ کے شاپر پر ڈالتا اور اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی جاتی۔ خوشی اس سے سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔
اپنے بچوں کے اداس چہروں کو تصور میں گلاب کے پھول کی پتی کی طرح کھلتے دیکھ کر اس کا خون بڑھتا جارہا تھا۔ ننھی ماورا اور چھوٹے وجدان کی فرمائش وہ ایک دن یوں اچانک پوری کردے گا، اس نے سوچا بھی نہ تھا۔
فرہاد علی غریب طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔وہ صابن کی ایک فیکٹری میں کام کیا کرتا تھا۔ اس کے چار بچے تھے۔ تنخواہ اتنی تھی کہ وہ اپنی بیوی، چار بچوں اور بوڑھی ماں کے لیے دو وقت کی روٹی اور ضرورت پڑنے پر جوتے، کپڑے خرید کر دے سکتا تھا، مگر اس سے زیادہ کچھ کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اسے ہر ماہ کچھ نہ کچھ پیسے بچا کر بھی ضرور رکھنے ہوتے تھے، کیونکہ بوڑھی ماں کی طبیعت کسی وقت بھی خراب ہوجاتی تھی اور ایسے موقع پر وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جاتا تھا۔ اپنے بچوں کی فرمائش اسے ایک کان سے سن کر دوسرے سے زبردستی نکالنی پڑتی۔ اس کے بغیر چارہ نہیں تھا۔ بہت دن سے اس کی چھوٹی بیٹی ماورا اور لاڈلا وجدان چابی سے چلنے والی گاڑی اور کھلونا ہیلی کاپٹر کی فرمائش کررہے تھے۔ مگر وہ ان حالات میں اپنے بچوں کی خواہش پوری نہیں کرسکتا تھا، تاہم وہ تمنا ضرور کرتا تھا کہ کاش میں اپنے بچوں کی فرمائش پوری کرسکتا۔
فیکٹری سے گھر پہنچنے پر اس کے بچے اس کے خالی ہاتھوں کو دیکھ کر اداس لہجے میں پوچھتے:
’’بابا جان! آج آپ ہمارے کھلونے نہیں لائے؟‘‘ ان کی دکھ میں ڈوبی آوازیں اس کا دل چیر کر رکھ دیتیں۔ وہ انہیں خود سے چمٹا کر ڈھیر سا پیار کرتا اور بجھے ہوئے دل کے ساتھ انھیں پھر کبھی پر ٹال دیتا۔
آج نئے مہینے کی تاریخ تھی۔ اسے تنخواہ ملنی تھی۔ مگر تنخواہ کی رقم سے زیادہ رقم کے سامان کی پرچی اس کی جیب میں موجود تھی۔ ہر مہینے ایسا ہی ہوتا تھا۔ تنخواہ کے پیسوں سے زیادہ کے سامان کی پرچی تنخواہ ملنے سے پہلے ہی تیار ہوتی تھی۔ پھر تنخواہ ملنے کے بعد وہ اس پرچی میں سے وہ چیزیں جن کے بغیر مشکل سے سہی مگر کام چل سکتا تھا، نکال دیتا اور باقی چیزیں خریدلیتا۔ مگر آج اسے ایسا نہیں کرنا پڑا تھا۔ فیکٹری کے مالک نے آج فرہاد علی کی بہتر کارکردگی اور دیانت داری سے متاثر ہوکر خوشی میں اسے تنخواہ سے دوگنی رقم دے ڈالی تھی۔ اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔
آج اس نے گھر کا سامان بھی سارا خریدا تھا اور ننھی ماورا اور چھوٹے وجدان کے لیے گاڑی اور ہیلی کاپٹر بھی خرید لیے تھے۔ وہ خوشی سے جھومتا ہوا خیالات کی دنیا میں گم چلا جارہا تھا۔
’’میرے بچے! آج اپنی فرمائش پوری ہوتی دیکھ کر کس قدر خوش ہوں گے۔ ہاں آج میرے بچوں کے چہروں پر پھیلی اداسی دور ہوجائے گی۔‘‘
وہ سوچتا جارہا تھا اور خوشی سے جھومتا جارہا تھا کہ اچانک اس کی خوب صورت سوچوں کا تسلسل کسی نے بڑی بے تابی سے توڑ ڈالا۔ وہ ہوا جس کی اسے ایک فیصد بھی توقع نہیں تھی بلکہ اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی ہوگی۔ اس کے ہاتھ سے کھلونوں کا شاپر کسی نے ایک دم چھین لیا تھا۔ بدحواسی کے عالم میں اس نے اس فل اسپیڈ پر دوڑتی موٹر سائیکل کی طرف دیکھا۔ اس پر دو نوجوان بیٹھے ہوئے تھے اور انہی میں سے ایک نے اس کے ہاتھ سے کھلونوں کا شاپر اڑایا تھا۔
’’چچ…چچ…چور…چور…‘‘ فرہاد علی کے حلق سے گھٹی گھٹی آواز میں بس اتنا نکل سکا۔ موٹر سائیکل لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔
اب تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ انتہائی بے بسی کے عالم میں کچھ دیر پتھر کے بت کی طرح بے حس و حرکت کھڑا اسی طرف تکتا رہا، جس طرف وہ موٹر سائیکل غائب ہوئی تھی اور پھر مرے مرے قدم اٹھاتا گھر کی جانب چلنے لگا۔
اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی ٹانگوں میں اس کا وزن اٹھانے کی سکت باقی نہ رہی ہو۔ خوابوں کے حسین آبگینے سے زیادہ نازک محل جو کچھ دیر پہلے ہی اس کے ذہن میں تعمیر ہوا تھا، پل بھر میں چکنا چور ہوگیا تھا اور اس کی کرچیاں اسے اپنے دل میں چبھتی محسوس ہورہی تھیں۔ شاید وہ بھول گیا تھا ، وطنِ عزیز میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آنسو بے تحاشا آنکھوں سے بہنے لگے۔ اس کے منہ سے نکلا: ’’مالک! مالک!‘‘
…٭…
’’راجو کھول کر تو دیکھو اس میں ہے کیا؟‘‘ موٹر سائیکل چلاتا خاور اپنے پیچھے بیٹھے راجو سے مخاطب ہوا۔
’’دیکھتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے شاپر کی گرہ کھولی اور پھر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس کے چہرے پر شدید غصے کے آثار نمایاں ہوگئے، نتھنے پھول گئے اور آنکھیں مارے غصے کے سرخ ہوگئیں۔
’’یہ! یہ تو کھلونے ہیں۔‘‘ وہ حیرت اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں بولا۔
’’ہائیں کیا کہا! کھلونے ہیں ! دکھاؤ ذرا!‘‘ خاور بے یقینی کے عالم میں بولا اور موٹر سائیکل روک کر شاپر میں جھانک کر دیکھا۔
’’اف! مگر وہ کم بخت تو خوش ایسے ہورہا تھا جیسے کوئی بہت بڑی دولت ہاتھ لگ گئی ہو اس کے۔‘‘
’’ہاں یار واقعی ٹھیک کہتے ہو، وہ واقعی اس شاپر کی طرف دیکھ دیکھ کر خوشی سے پھول رہا تھا۔ عجیب احمق انسان تھا۔ چلو موٹر سائیکل اسٹارٹ کرو، یہ وار تو خالی ہی چلا گیا۔ ہوہنہ پاگل شخص۔‘‘ راجو نے گردن کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا اور موٹر سائیکل اسٹارٹ ہوگئی۔ اس نے ایک بار پھر گردن کو جھٹکا دیا اور شاپر کو گھما کر کوڑے کے ایک ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔
…٭…
آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کی وجہ سے اسے صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا، پھر بھی کوڑے کے ڈھیر پر پڑے شاپر پر اس کی نظریں جم سی گئیں۔ اس کے منہ سے نکلا:
’’کک! کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں ! ارے نہیں! یہ وہ شاپر نہیں۔ یہ تو کوڑے کا شاپر ہے۔ لگتا تو وہی ہے۔ دیکھ لینے میں کیا حرج ہے۔‘‘ اس کے اندر سے ایک آواز اٹھی۔
اندر کی آواز سے مجبور ہوکر اس نے ادھر ادھر نظر ڈال کر ایک دم وہ شاپر اٹھالیا۔ کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ پھر جونہی اس نے شاپر کے اندر جھانکا اس کے چہرے پر خوشی کی بجلی چمکی۔ شاپر میں دونوں کھلونے موجود تھے۔ اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا:
’’واہ مالک! واہ!‘‘
اب اس کے قدم پہلے سے بھی تیز اٹھ رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے بہہ رہے تھے، لیکن یہ آنسو خوشی کے آنسو تھے۔ وہ زبان سے بار بار کہہ رہا تھا:
’’اللہ تیرا شکر ہے، اللہ تیرا شکر ہے۔‘‘
تھوڑی دیر بعد اس کے دونوں بچے ان کھلونوں کو دیکھ کر خوب اچھل کود رہے تھے اور دونوں میاں بیوی انھیں اس درجے خوش دیکھ کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔
——

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی ستمبر 2024

شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ ستمبر 2023

شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146