نئی نسل کے سڑکوں پر اترنے کے معنی

شمشاد حسین فلاحی

ملک کی راجدھانی دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں کا احتجاج نہ صرف ملک میں موضوع بحث ہے بلکہ عالمی میڈیا کی بھی توجہ حاصل کر رہا ہے اور سوشل میڈیا پر چھایا ہوا ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک تبصرے کے نتیجے میں آن لائن تشکیل پانے والے طلبہ و نوجوانوں کا گروپ کا کروج جنتا پارٹی جب میدان عمل میں اترا اور اس نے احتجاج شروع کیا تو انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ طلبہ پر لاٹھیاں برسائی گئیں، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور پیلیٹ گن تک کا استعمال کیا گیا۔ اس چیز نے نوجوانوں کو شاید زیادہ مشتعل کردیا اور ملک کے کونے کونے میں ان کے احتجاج شروع ہوگئے۔

پیپر لیک ان کا اہم ترین اور سب سے بڑا شکوہ تھا اور انہوں نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ جواب دہی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم مستعفی دیں۔ ان کا مطالبہ سادہ تھا اور اگر حکومت اس بات کو ابتدائی میں مان لیتی تو شاید معاملہ اتنی پیچیدگی اختیار نہ کرتا۔ وزیر تعلیم کو استعفی بھی دینا پڑتا اور تحریک کو تقویت بھی ملتی گئی۔ یہ شاید حکومت کی موقع شناسی کی کمی کی، ہٹ دھرمی اور اس سے بڑھ کر غلط سمت کی پالیسی ہی کا نتیجہ تھا کہ احتجاج کو طاقت ملی، ان کے اندر کامیابی کا احساس جاگ اٹھا اور ساتھ ہی ان کے اندر یہ تصور پختہ ہوگیا کہ حکومت جھکنے والا ہے، اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ حکومت کے لئے درپردہ مذاکرات کے ہاتھ میں حکومت کی کوشاں بن گئی ہے۔

معاملہ میں پھر ختم نہیں ہوتا بلکہ اور زیادہ مشکل معاملہ بنتا جارہا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر اسکولی طلبہ و طالبات نے بھی اسکولوں کی صورت حال اور تعلیمی نظام کی گئی گزری حالت پر احتجاج شروع کردیا ہے اور شکل یہ ہے کہ ان پر پرندہ طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور وارننگ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ کل ملک جو صورت حال سامنے آرہی ہے وہ ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام اور اس کی کمزوریاں پوری طرح ایکسپوز ہوکر اپنی قلعی خود کھولتی جارہی ہیں۔

عوامی سطح پر سیاسی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو احتجاج کے الفاظ میں کچھ خاموش اور کچھ کھلی دونوں طرح کی سپورٹ اور حمایت نظر آتی ہے اور اس کا بھی بنیادی سبب ہے کہ کوئی بھی انسان خواہ وہ امیر ہو یا غریب، تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ، اپنی آنے والی نسل کو اس صورت حال میں نہیں دیکھنا چاہتا جس میں وہ آج ہے۔ بے روزگاری، تعلیم کی کمی کاری اور اس کے نتیجے میں بڑھتے اخراجات اور اس پر مسترز نوجوانوں کا غیر یقینی مستقبل ایسے ایشوز ہیں جنہوں نے والدین کو ایک تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

چین کی اس تحریک کو ہم سیاسی تنک سے نہیں دیکھتے بلکہ اسے سماجی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ملک کے طلبہ و نوجوانوں کی ایسی تحریک ہے جو اپنے بہتر مستقبل کی خواہش میں حکومت سے ایسے مطالبات کر رہی ہے جو صرف ان کے بہتر مستقبل کے لئے ضروری ہیں بلکہ پورے ملک کا مستقبل بھی اسی سے وابستہ ہے۔ ملک اور قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد ان کی تعلیم و ترقی اور ان کے لئے مواقع کا فروغ ہے۔ اگر ہماری نئی نسل اپنے مستقبل کو تاریک دیکھتی ہے تو اس کا حق ہی نہیں، اس پر لازم ہے کہ وہ اسے روشن بنانے کے لئے جدوجہد کرے اور اس راہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کرے۔

دوسری طرف ہمارا خیال بھی ہے کہ حکومت اس بات کے لئے ذمہ دار ہے کہ وہ نوجوانوں کے لئے، جو ملک کا مستقبل ہیں، اچھی اور معیاری تعلیم کا نظم کرے اور اس کام کے لئے انہیں بہتر مواقع فراہم کرے۔ اگر یہ نسل ایسا سوچتی ہے کہ حکومتیں ان کے ساتھ وہ معاملات نہیں کر رہی ہیں جو مطلوب ہیں تو ان کے اندر یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ حکومتیں ایسی پالیسی بنا رہی ہیں جو ان کے بہتر مستقبل کی تعمیر و ترقی کے لئے نقصان دہ ہیں، تو ان کا اس کے خلاف کھڑے ہونا بالکل فطری بات ہے۔ اب ذمہ داری حکومتوں کی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو اپنی پالیسیوں سے، نہ کہ اسٹیج کے وعدوں سے، یہ یقین دلائیں کہ ان کے بہتر مستقبل کے لئے کام کیا جارہا ہے۔

ہمیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ ہر محرومی کا یہ احساس، جس نے اس نسل کو احتجاج پر مجبور کیا، راتوں رات پیدا نہیں ہوگیا۔ یہ سالہا سال کے مشاہدے اور تجربے کے نتیجے میں پیدا ہوا اور بالآخر ایک وقت پر لاکھوں نوجوانوں نے کروڑوں روزگار کے وعدوں کا بھی جائزہ لیا ہوگا اور پیپر لیک کے بڑھتے واقعات کو بھی دیکھا ہوگا۔ اور نوجوان ہی کیا ملک کا ہر شہری اس کو دیکھ اور جھیل رہا ہے۔ ان لاکھوں طلبہ کو دیکھتے جوان رات محنت کرکے امتحان کی تیاری کرتے ہیں اور عین امتحان کا دن پہنچتا ہے کہ پیپر لیک ہوگیا ہے۔ ان والدین کے بارے میں سوچ کر دیکھئے جن کے بچوں نے اس صورت حال سے آہت ہوکر خودکشی کرلی۔

کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے کہ احتجاج سیاست سے متاثر ہے مگر ہندوستان جیسے ملک میں جہاں حادثات سے مواقع کشید کیے جاتے ہیں، یہ ممکن نہیں ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نسل کو جو کافی ذہین اور سمجھدار ہے، نہ تو سیاسی ہاتھ کٹروں سے بچایا جاسکتا ہے اور نہ جھوٹے وعدوں سے بہلایا جاسکتا ہے۔

ہم ابھی سمجھتے ہیں کہ جس طرح یہ صورت حال اچانک پیدا ہوئی اسی طرح راتوں رات ختم بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے ہمیں بہتر نظر آتا ہے کہ حکومتیں اس نسل سے سیدھے وعدے کرکے انہیں اعتماد میں لے اور انہیں یقین دلائے کہ حالات کو بہت سمت میں تبدیل کیا جائے گا اور بھرپور عملی طور پر یہ ثابت کرکے کہ مثبت سمت میں تبدیلی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ہمارے خیال میں یہ مسئلہ صرف نوجوان نسل کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملک کی تعمیر و ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت وقت اس مسئلہ کو سیاسی نظر سے دیکھنے کے بجائے ملکی مفاد اور اس کی تعمیر و ترقی کی نظر سے دیکھے۔

مزید

حالیہ شمارے

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ اگست ستمبر 2026

Hijab Islami Aug-Sept 2026شمارہ پڑھیں

ماہنامہ حجاب اسلامی شمارہ فروری 2026

Hijab Islami Feb 2026شمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے حجاب اسلامی کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے  وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 600 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9810957146