موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ اس نے انسانی زندگی کو ایک ایسی بے چینی اور بے اطمینانی سے دوچار کیا ہے جس کا اثر تو انسان محسوس کرتا ہے مگر اس کا سبب معلوم نہیں کر پاتا۔ دولت، شہرت اور سماجی مرتبہ اور عزت کے باوجود لوگ اپنے اندر ایک خلا اور کمی محسوس کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات اور مذہبی رہنما اسے روحانی خلا کے نام سے بیان کرتے ہیں۔
جو لوگ موجودہ دور میں اس خلا کا شکار ہیں وہ اسے اپنی زندگی میں پر کرنے کے لئے مختلف جہات کی مدد لیتے ہیں۔ کچھ لوگ دھیان گیان کے کیندروں میں جاتے ہیں تو کچھ لوگ تنہائی کی گپھاؤوں میں اسے تلاش کرتے ہیں اور کچھ لوگ اسے انسانوں، جانوروں اور چرند پرند کی خدمت کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
یہ روحانی خلا انسانی زندگی میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کا استحصال بھی ہونے لگا ہے اور لوگ انسانوں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اپنی تجوریاں بھی بھر رہے ہیں۔ اس سے سماج کا کوئی طبقہ اور کوئی مذہبی اکائی مشکل ہی سے مستثنی قرار دی جا سکتی ہے۔
یہ روحانی خلا در اصل اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو اس کی ضرورت فطری طور پر ہے اور جب یہ نہ ملے تو سب کچھ مل جانے کے باوجود کمی کا احساس ستائے رہتا ہے۔ اسی احساس نے گوتم بدھ کو شاہی محل سے جنگلوں میں پہنچا دیا اور اس احساس نے اوشو صاحب کو عالمی مقبولیت بھی دی اور بے شمار دولت بھی۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں ان کے عروج کے زمانے میں ان کے پاس یا ان کے استعمال میں 93 رولس رائس کاریں تھیں۔ اس سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو سماج اور معاشرے جس قدر ترقی یافتہ اور مادہ پرست ہیں ان میں یہ خلا اسی قدر زیادہ اور شدید ہے۔
انسانوں کی زندگی میں روحانی خلا بلکہ روحانی بحران کے اس دور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی انسانوں کے لئے زبردست معنویت اور اہمیت رکھتی ہے۔ آپ کی زندگی روحانیت اور مادیت کا ایسا خوب صورت سنگم اور ایسا بہترین توازن ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ زندگی میں شادی کرنا، بچے پالنا اور ان کے مسائل میں الجھنا دنیا داری ہے، اس لئے وہ اس اہم سماجی اور معاشرتی ذمہ داری کو در کنار کرتے ہوئے تجرد کی زندگی، رہبانیت، سنیاس اور برہم چریہ کی زندگی اختیار کرتے ہیں۔ یہ تصور تمام ہی مذاہب میں پایا جاتا ہے اور لوگ اسے روحانیت کے حصول کا ذریعہ تصور کرتے ہیں، جب کہ حضور پاک نے کئی شادیاں کیں اور بیک وقت کئی بیویاں ان کے نکاح میں رہیں مگر آپ کا اپنے رب سے جو تعلق تھا وہ لمحہ بھر کے لئے بھی کمزور نہیں ہوا۔
غور کریں کہ جس چیز کو لوگ دنیا داری، لذت پسندی اور روحانیت کے خلاف سمجھتے ہیں اسے ہمارے رسول نے تقرب الہی کا ذریعہ بتایا ہے۔ ہماری نظر میں انسانی زندگی کو روحانیت سے بھر دینے والی اور اپنے رب سے قریب تر کر دینے والی تین بنیادی باتیں ہیں: ایک آخرت کی جواب دہی کا پختہ شعور و احساس، دوسرے اللہ کے بندوں کی خدمت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے لئے فکر مندی اور تیسرے اللہ کا ذکر۔
انسان اگر اپنی زندگی میں ہر وقت اس بات کو سامنے رکھے کہ اس کو ایک دن مرنا ہے اور اپنے رب کے سامنے حاضر ہو کر اپنے تمام اچھے اور برے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ زندگی میں غلط کاموں اور برائیوں کے قریب جا ہی نہیں سکتا اور یہ تصور ہر وقت اسے اپنے رب سے ایسا جوڑے رکھے گا جیسے کسی مضبوط بونڈ سے اسے رب کریم سے جوڑ دیا گیا ہو اور جو شخص اپنے رب سے ہر وقت جڑا ہوا ہے اس کی زندگی میں روحانی بحران تو دور کی بات ہے، روحانی خلا بھی اسے چھو کر نہیں گزرے گا۔
اسی طرح کا معاملہ اللہ کے بندوں کی خدمت کا ہے اس کے حقوق کی ادائیگی کی فکر وہ قیمتی چیز ہے جو انسان کو بیک وقت اللہ اور اس کے بندوں، دونوں سے جوڑ دیتی ہے اور جو انسان اللہ اور اس کے بندوں سے جڑا ہوا ہو اسے مادہ پرستی، خود غرضی اور دنیا کی حرص و چاہ اپنی طرف مائل نہیں کر سکتے اور یہی چیزیں ہیں جو انسانی زندگی کے روحانی تانے بانے بکھیرنے والی ہیں۔ رہی بات اللہ کے ذکر کی تو یہ ان تمام چیزوں پر بھاری اور بالا تر ہے جو انسان کو ہمہ وقت اپنے رب سے جوڑے رکھتا ہے اور جو انسان اللہ تعالی سے جڑا ہوا ہو اس کی زندگی میں روحانی خلا بھلا کیسے آسکتا ہے۔
جب ہم نبی کریم کی ہدایات اور سیرت پاک کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ یہ تینوں چیزیں آپ کی عملی زندگی میں اس قدر نمایاں اور بھر پور تھیں کہ حیرت ہوتی ہے۔
آخرت کی جواب دہی کا احساس آپ کے اندر انتہائی شدید اور نہایت پختہ تھا۔ قرآن کریم بھی اس بات کو بہت مضبوط اور تاکید کے انداز میں پیش کرتا ہے۔
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
”ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تمہیں اپنے بدلے پورے پورے دیئے جائیں گے، پس جو شخص آگ سے بچالیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بے شک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے“۔
فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ . وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
”پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔“
یہ چیز آپ کی زندگی میں ہر عمل اور قدم پر نظر آتی ہے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں بے شمار واقعات ہمیں ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر جب ہم اپنی ذات کو دیکھتے ہیں تو روح کانپ جاتی ہے۔
قرآن جسے “الهاكم التكاثر” یعنی ہر وقت ہائے مال، ہائے مال کرتے رہنا کہتا ہے اس سے آپ کی زندگی پاک تھی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو مال سے نفرت تھی بلکہ آپ کا تصور یہ تھا کہ مال کی ایسی محبت انسان کے اندر نہ ہو جو اسے ناجائز طریقوں تک لے جائے اور آخرت سے غافل کر دے۔ آپ نے روحانی ترقی اور مادی ارتقا کا ایسا متوازن فارمولا پیش کیا کہ اگر انسان اسے سامنے رکھے تو کبھی روحانی خلا اس کو محسوس نہ ہو۔ آپ نے تعلیم دی کہ دنیا کماؤ اس طرح کہ جیسے ہمیشہ تمہیں یہی رہنا ہے اور آخرت کماؤ اس طرح کہ جیسے اگلے ہی لمحے تمہیں مر جانا ہے۔
اس استحضار آخرت کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے نیکی کے کام میں تاخیر یا کسل مندی نہ کرنا۔ تصور کیجئے کہ اللہ کے رسول کو سخت بخار ہے اور آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے قریب میں باہر سے آیا ہوا ایک تجارتی قافلہ قیام پذیر ہے۔ آپ اٹھتے ہیں اور اس سے ملنے کے لئے جانے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اللہ کے رسول آپ کا جسم بخار سے تپ رہا ہے، ایسے میں جانا مناسب نہیں تو آپ کا جواب ہوتا ہے کہ کیا تم اس بات کی ضمانت دیتے ہو کہ میں کل تک زندہ رہوں گا یا قافلہ کل تک ٹھہرا رہے گا۔ اگر قافلہ چلا گیا یا میں زندہ نہ رہا تو اللہ تعالیٰ مجھ سے سوال کرے گا کہ تم نے اس قافلے تک دین کیوں نہیں پہنچایا۔ یہ روحانی طاقت ہے جو فکر آخرت اور اللہ کے سامنے احساس جواب دہی کے تصور سے آتی ہے۔
اللہ کے رسول نے اپنی عملی زندگی سے ہمیں یہ بتایا کہ روحانی سکون دولت کے انبار سے نہیں بلکہ اللہ کے سامنے حاضر ہونے کے تصور، اس سے ملاقات کے شوق اور اس کی سزا سے بچنے کی فکر سے حاصل ہوتا ہے اور موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ جو جتنا دولت مند ہے وہ اس قدر روحانی بے آسودگی کا شکار ہے۔
اسلام کی خوبی اور اللہ کے رسول کی سیرت کی امتیازی شان یہ ہے کہ یہ بندوں کی ہمہ جہت خدمت سے عبارت ہے۔ آپ نے عام بندوں کے ساتھ ساتھ قریبی رشتہ داروں کے، جن سے تعلق ہمیں سکون اور تحفظ فراہم کرتا ہے، حقوق بھی متعین کئے ہیں اور یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف کر سکتا ہے لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں کر سکتا جب تک وہ خود معاف نہ کر دیں۔ اس بات کو جاننے کے بعد آپ اپنی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ یاد کریں جب آپ نے کسی انتہائی ضرورت مند انسان یا کسی مصیبت میں پھنسے جانور یا پرندے کو تکلیف سے نجات دلائی ہو اور پھر اس کے بعد حاصل ہونے والے سکون کا تصور کریں۔ آپ کو اندر سے ایک خوشی اور مسرت کا احساس ہوگا۔ اگر یہ کام خالص اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کیا ہو تو اسکی مقدار اور احساس کی شدت اور زیادہ محسوس ہوگی۔
رشتہ داروں، اللہ کے عام بندوں اور اللہ کی مخلوق کی خدمت اور جب وہ اللہ کی رضا کے حصول کے تصور کے ساتھ انجام دی جائے تو ایک غیر معمولی روحانی مسرت کا ذریعہ بنتی ہے۔ اللہ کے رسول کا عمل اور آپ کی تعلیمات انسان کو اس روحانی مسرت اور سکون کے حصول کا دروازہ ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی اس وقت تک بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچانے والا ہے۔ اگر انسان کے پاس کسی کو دینے کے لئے کچھ نہیں تو بھی وہ نیکی اور روحانی مسرت سے محروم نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورت میں آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے کسی انسان بھائی سے مسکرا کر ملنا بھی صدقہ ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے۔ لیجئے کسی سے ملنا بھی آپ کے لئے اجر اور روحانی مسرت اور رب کی رضا کے حصول کا ذریعہ بن گیا۔ جو لوگ اس تصور کے ساتھ اور سیرت رسول کے اس عملی طرز زندگی سے رہنمائی لیتے ہوئے زندگی گزاریں وہ بھلا زندگی کے سخت ترین حالات میں بھی روحانی خلا کا شکار کیسے ہو سکتے ہیں۔
تیسری چیز جو رسول پاک کی سیرت کے مطالعہ سے ہمارے سامنے آتی ہے وہ آپ کا ہمہ وقت ذکر الہی میں مصروف رہنا ہے۔ ذکر الہی میں مصروف رہنے کا مطلب ہر وقت عبادت یا نماز میں مشغول رہنا نہیں بلکہ اللہ سے تعلق کو قائم رکھنا ہے۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے لوگوں کے ساتھ کاروبار کرتے ہوئے بھی انسان یہ کام کر سکتا ہے۔ اللہ کے نام سے کھانا شروع کرنا اور اس کے شکر کے ساتھ ختم کرنا، چلتے پھرتے ہوئے کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہی سبحان اللہ کہہ دینا کسی اچھی خبر یا بات پر الحمد للہ کہہ دینا اور کسی بری بات یا کام کے وقت استغفر اللہ کہہ دینا ہمیں ایک طرف تو روحانی سکون سے بھر دیتا ہے، دوسری طرف ہمارے لئے ذخیرہ آخرت بن جاتا ہے۔ اللہ کے رسول کی زندگی نے ہمیں سکھایا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اللہ تعالیٰ سے کیسے جوڑے رکھ سکتے ہیں اور اس طرح آپ نے انسان کی پوری زندگی کو عبادت میں تبدیل کر دیا۔ جو انسان ہمہ وقت اللہ اور اس کے ذکر سے جڑا رہے اس کی زندگی میں روحانی خلا کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔
آج پوری دنیا روحانی خلا نہیں بلکہ روحانی بحران کا شکار ہے اور لوگ اس کی تلاش میں کیا کیا کر رہے اور کہاں کہاں بھٹک رہے ہیں پھر بھی اسے حاصل کرنے میں ناکام ہیں، ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں۔ رسول کریم کی سیرت پاک اور آپ کی تعلیمات ہی آج کے انسانوں کی زندگی کے گوں ناگوں مسائل کا حل بن سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اس سے روشنی حاصل کریں اور انسانوں کو بھی وہ روشنی دکھائیں۔





